.

لیبیا: اجرتی جنگجوؤں کی پڑوسی ممالک میں در اندازی پر بین الاقوامی برادری کو خدشات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی سفارت کاروں نے باور کرایا ہے کہ لیبیا کی سرزمین پر موجود غیر ملکی فورسز کے اہل کاروں اور اجرتی جنگجوؤں کی مجموعی تعداد کا اندازہ 20 ہزار سے زیادہ لگایا گیا ہے، ان میں 13 ہزار شامی ہیں۔ یہ بات جمعے کے روز فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے مذکورہ سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتائی۔

یہ بات گذشتہ روز (جمعرات) عالمی سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کے بعد سامنے آئی۔ یہ اجلاس لیبیا میں موجود اجرتی جنگجوؤں کے ،،، خطے کے ممالک میں پھیل جانے کا خطرہ زیر بحث لانے کے لیے مختص سلامتی کونسل کا پہلا اجلاس تھا۔ واضح رہے کہ چاڈ کے صدر ادریس دیبو چند روز قبل باغی عناصر کے خلاف لڑنے والے فوجیوں سے ملاقات کے لیے محاذ کا دورہ کر رہے تھے جس کے دوران ایک حملے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ یہ خبریں بھی سامنے آئیں کہ اس حملے میں شریک بہت سے مسلح افراد لیبیا کی سرزمین سے آئے تھے۔

دو سفارتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سلامتی کونسل کے 15 ارکان نے لیبیا سے غیر ملکی اجرتی قاتلوں اور جنگجوؤں کے انخلا کو براہ راست چاڈ کے واقعے سے مربوط کیا۔

سفارت کاروں نے بتایا کہ اقوام متحدہ میں اس بات پر اتفاق رائے پایا جاتا ہے کہ لیبیا سے نظم و نسق کے ساتھ انخلاء اور وہاں سیکورٹی سیکٹر میں اصلاحات کو زیر بحث لانے کی ضرورت ہے۔

یاد رہے کہ سیکورٹی فورسز کو یکجا کرنے کے مسئلے کے علاوہ اجرتی جنگجوؤں اور غیر ملکی فوج کا معاملہ لیبیا میں نئی اتھارٹی کے سامنے ایک دشوار ترین گتھی ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کی سرپرستی میں لیبیا کے فریقوں کے بیچ فائر بندی کا ایک معاہدہ طے پایا تھا۔ اس معاہدے کے متن میں یہ تحریر کیا گیا کہ جنوری 2021ء تک لیبیا سے غیر ملکی فورسز اور اجرتی جنگجوؤں کے انخلاء کی ضرورت ہے۔ تاہم مقررہ تاریخ بنا کسی حل تک پہنچے گزر چکی ہے۔