.

عربوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بد ترین حالت میں ہیں: فائزہ رفسنجانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے ایک سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی فائزہ رفسنجانی نے ملک کے حکام کو ایک بار پھر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

فائزہ نے ایرانی جون میں مقررہ صدارتی انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے حسن روحانی کی حکومت کی داخلہ اور خارجہ پالیسی پر نکتہ چینی بھی کی۔

اصلاح پسندوں کے ایرانی اخبار "آرمان ملی" کو دیے گئے انٹرویو میں سابق صدر کی بیٹی نے عرب دنیا، مغربی دنیا اور امریکا کے ساتھ اپنے ملک کے کشیدہ تعلقات پر روشنی ڈالی۔ فائزہ کا کہنا تھا "آپ عربوں کے ساتھ ہمارے تعلقات دیکھیے ،،، یہ اس سے زیادہ ابتر نہیں ہو سکتے"۔

فائزہ کے مطابق ووٹنگ میں حصہ نہ لینا ان لوگوں کے لیے ایک کاری ضرب ثابت ہو گی جنہوں نے ملک کو اس صورت حال تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ووٹ نہ دینا کوئی حرام عمل نہیں، ووٹنگ کی کوئی منطق اور اس کا کوئی اثر ہونا چاہیے۔ انتخابات بہتری کے لیے ہونا چاہیے نہ کہ ابتری کے لیے ... ان لوگوں میں کیا فرق ہے جو ہمارے ووٹوں سے اقتدار میں آتے ہیں اور پھر احکامات بجا لا رہے ہوتے ہیں ؟" ... فائزہ کا اشارہ ایران میں برسر اقتدار آنے والے صُدور کا رہبر اعلی (علی خامنہ ای) کی ہدایات کے آگے جھکاؤ کی جانب تھا۔

روحانی حکومت کی کارکردگی کے حوالے سے سوال کے جواب میں فائزہ کا کہنا تھا کہ "روحانی کی پہلی مدت میں جوہری معاہدے کی کامیابی حاصل ہوئی مگر بعد ازاں سفارتی صورت حال ڈرامائی صورت میں بگڑتی چلی گئی۔ دیگر ممالک کے ساتھ ہماری سفارت کاری اور ہمارے تعلقات اس نہج پر کبھی نہیں تھے۔ یہاں تک کہ احمدی نژاد کے دور میں بھی نہیں"۔

رفسنجانی کی بیٹی کے مطابق تہران کا چین اور روس کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنا ایران کے قومی مفاد میں نہیں بلکہ ان دونوں ممالک کے حق میں ہے۔ فائزہ نے واضح کیا کہ "ہم دوسروں سے عداوت کے واسطے ان دونوں ملکوں کی شراکت داری میں پھنس گئے"۔

یاد رہے کہ فائزہ ہاشمی رفسنجانی اصلاح پسند شخصیت اور سابقہ رکن پارلیمنٹ ہیں۔ سال 2011ء میں انہیں چھ ماہ جیل کی سزا سنائی گئی تھی۔ مزید یہ کہ فائزہ کو پانچ برس کے لیے سیاسی، ثقافتی اور صحافتی سرگرمیوں سے محروم کر دیا گیا تھا۔ سابق صدر کی بیٹی پر "حکومتی نظام کے خلاف پروپیگنڈا سرگرمیاں انجام دینے" کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

فائزہ پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے ایران کے انقلاب کے بعد "زن" (عورت) کے نام سے خواتین کا ایک جریدہ جاری کیا تھا۔ وہ ایرانی پارلیمنٹ کے اندر پہنچنے میں بھی کامیاب ہوئیں۔

گذشتہ برس جون 2020ء میں فائزہ رفسنجانی نے ایرانی حکام پر کڑی تنقید کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں حکمراں نظام " نہ تو مذہبی رہا اور نہ انقلابی"