.

عراق : جیل سے 21 قیدیوں کا فرار، پولیس سے پوچھ تاچھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک جیل سے 21 قیدیوں کے فرار کے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے اوراس ضمن میں پولیس سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان مفرور قیدیوں میں سے 10 کو دوبارہ اتوار کی سہ پہر تک گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ان تمام کو منشیات کی اسمگلنگ اور دہشت گردی کے الزامات میں قصوروارقرار دے کر قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

یہ تمام قیدی بغداد سے 300 کلومیٹر جنوب میں واقع صوبہ مثنیٰ کے ضلع ہلال کی جیل سے فرار ہوئے تھے۔عراق کے وزیرداخلہ نے اس کے فوری بعد افسروں اور پولیس کی بیرکوں کو محاصرے میں لینے اور قیدیوں کے فرار کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ قیدی کیسے جیل سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن بدعنوانیوں سے آلودہ عراق میں جرائم پیشہ افراد اکثر سکیورٹی افسروں کو رشوت دے کر جیلوں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔بعض قیدی مسلح گروپوں یا قبائل کے جتھوں کی مدد سے بھی فرار ہوجاتے ہیں۔

مارچ کے وسط میں ایران نواز ایک مسلح گروپ سے تعلق رکھنے والے افراد نے فوجیوں کا بہروپ بدل کر منشیات ایک اسمگلر کو پولیس کے حصار سے چھڑوا لیا تھا۔اس شخص کو جنوبی شہر عمارہ میں ایک عدالت میں پیشی کے لیے لے جایاجارہا تھا۔

صوبہ مثنیٰ کے گورنر نے قیدیوں کے فرار کو روکنے اور انھیں پناہ دینے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کے لیے بیش قیمت انعامات کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے فراریوں کی دوبارہ گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے بھی مالی انعامات ومراعات کا اعلان کیا ہے۔

عراق میں جیلوں کی حالت زار بھی ناگفتہ بہ ہے اوران میں ان کی گنجائش سے کہیں زیادہ قیدیوں کو رکھا گیا ہے۔قریباً 20 افراد کے لیے تعمیر کی گئی جیل کوٹھڑی میں بالعموم 50 تک قیدیوں کو ٹھونس دیا جاتا ہے۔انسانی حقوق کی تنظیمیں قیدیوں کی حالتِ زار کے بارے میں سوال اٹھاتی رہتی ہیں۔

واضح رہے کہ ٹرانسپیرینسی انٹرنیشل کی کرپشن کی درجہ بندی میں عراق نیچے سے اکیسویں نمبرپر ہے۔