.

سعودی عرب میں نامیاتی زراعت کا رقبہ 2.7 لاکھ ایکڑ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ماحول، پانی اور زراعت کی وزارت کی جانب سے جاری سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مملکت میں نامیاتی کاشت کاری (organic farming) کا مجموعی رقبہ 2.7 لاکھ ایکڑ تک پہنچ گیا ہے۔ مزید یہ کہ نامیاتی کاشت کاری کے ذریعے ایک سال کے اندر مقامی زرعی پیداوار کا حجم 9.8 کروڑ کلو گرام رہا اور لوکل فوڈ مارکیٹ کی قیمت 75.2 کروڑ ریال سے زیادہ ہے۔

وزارت کے مطابق نامیاتی کاشت کاری اس وقت اولین ترجیحات میں سے ہے۔ یہ عالمی سطح پر فوڈ انڈسٹری میں تیز ترین ترقی اور سب سے زیادہ طلب والا سیکٹر بن چکا ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں نامیاتی کاشت کاری کے قومی مرکز کے ڈائریکٹر جنرل انجینئر ولید البسام نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدا میں یہ مرکز 1958ء میں بعض زراعتی تجربات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں 1966ء میں یہ تحقیقاتی مرکز میں تبدیل ہو گیا۔ اس کے بعد 1976ء میں اسے قصیم صوبے میں ایک بڑے مرکز کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ دس سال قبل 2011ء میں ایک وزارتی فیصلے کے ذریعے اس مرکز کو نامیاتی کاشت کاری کے لیے مختص کر کے اس کا نام "مرکز برائے نامیاتی زراعت" رکھ دیا گیا۔ بعد ازاں اس کا نام بدل کر "قومی مرکز برائے نامیاتی زراعت" کر دیا گیا۔ اس کا مقصد مرکز کو 2020ء میں سونپی جانے والی ذمے داریوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا تھا۔

البسام کے مطابق اس مرکز کا مقصد نامیاتی کاشت کاروں کو فنی اور مشاورتی سپورٹ فراہم کر کے مملکت میں نامیاتی زراعت کو ترقی دینا ہے۔ علاوہ ازیں اس نوعیت کی زرعی اراضی کو توسیع دینا ہے تا کہ صحت بخش اور پائے دار غذا اور قدرتی وسائل کو ویژن 2030ء پروگرام کی روشنی میں مامون بنایا جا سکے۔

البسام نے تصدیق کی ہے کہ ان کا مرکز نامیاتی زراعت کے نظام سے متعارف کرانے کے لیے صوبے اور اس کے بیرون کی سطح پر تربیتی ورکشاپوں اور کورسوں کا انعقاد کرتا ہے۔