.

پینٹاگان کا عراق میں امریکی مفادات پرایک اور حملے پر اظہارِتشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پینٹاگان نے عراق میں امریکی فوجیوں اور کنٹریکٹروں کے زیراستعمال اڈوں پر مسلسل حملوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

محکمہ دفاع کے پریس سیکریٹری جان کربی نے سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ان حملوں میں ملوّث عناصر کا سراغ لگانے کے بعد مناسب جواب دے گا۔

انھوں نے عراق میں امریکی فوج کے سدِّجارحیت کے طریقوں کا دفاع کیا ہے۔عراق میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں آئے دن امریکی فوج کے زیراستعمال اڈوں یا جگہوں پر حملے کرتی رہتی ہیں۔

جان کربی نے کہا :’’ وقتاً فوقتاً حملوں کا یہ مطلب نہیں کہ سدِّجارحیت کے تمام جنگی حربے کام نہیں دے رہے ہیں لیکن آپ واضح طور پر زیرو صورت حال چاہتے ہیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی قابل قبول شواہد دستیاب نہیں ہوئے جن کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ سوموار کو حملے کا کون ذمے دار ہے۔

قبل ازیں عراق کے دارالحکومت بغداد سے شمال میں واقع بلد ائیربیس پر تین راکٹ گرے ہیں۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اڈے پر کوئی امریکی اہلکار یا داعش مخالف اتحاد کا فوجی تعینات نہیں ہے بلکہ پرائیویٹ امریکی کنٹریکٹر رہ رہے ہیں۔

جان کربی نے صحافیوں کو بتایا کہ ’’اس راکٹ حملے میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا ہے۔‘‘امریکیوں کے زیراستعمال عراق کے کسی فوجی اڈے پر گذشتہ چند روز میں یہ دوسراحملہ ہے۔

پینٹاگان کے ترجمان نے واضح کیا کہ عراق میں حکومت کی دعوت پر امریکی فوجی داعش کے خلاف لڑائی کے لیے موجود ہیں۔