.

بغداد کے مکین ایرانی لیڈروں خمینی، خامنہ ای اور قاسم سلیمانی کے بل بورڈ ہٹانے پرمسرور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد میں شاہراہوں سے ایران کے سابق سپریم لیڈر اور انقلاب کے بانی مرحوم آیت اللہ روح اللہ خمینی ، موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اورسپاہ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے سابق سربراہ مقتول میجر جنرل قاسم سلیمانی کی تصاویر والے بل بورڈز ہٹا دیے گئے ہیں۔اس پر عراقیوں نے خوشی کااظہار کیا ہے اور ان کی بعض ویڈیوز سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ہیں۔

ان میں بغداد کے سنی اکثریتی علاقے الاعظمیہ میں عراقی مظاہرین کو روح اللہ خمینی ، آیت اللہ علی خامنہ ای اور قاسم سلیمانی کے بڑے اشتہارات کی طرح کے بل بورڈز ہٹائے جانے پر نعرے بازی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ القدس فورس کے سابق کمانڈر قاسم سلیمانی 3 جنوری 2020ء کو بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر امریکا کے ایک فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ان کے ساتھ عراقی ملیشیاؤں پر مشتمل الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر ابومہدی المہندس بھی مارے گئے تھے۔

قاسم سلیمانی اپنی موت کے بعد بھی ایرانی میڈیا کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کی خبروں میں زندہ ہیں۔حالیہ دنوں میں ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کی ایک افشا ریکارڈنگ میں بھی ان کا تذکرہ موجود ہے۔ تین گھنٹے پر محیط اس ریکارڈنگ کو25 اپریل کو لندن سے تعلق رکھنے والے ایران انٹرنیشنل ٹی وی اسٹیشن نے نشر کیا تھا۔

اس میں ایرانی وزیرخارجہ کو سفارت کاری میں فوج کے کردار کا شکوہ کرتے ہوئے سنا گیا تھا۔ان کا کہنا تھا’’میرا سپاہِ پاسداران انقلاب اور اس کے (مقتول) کمانڈر قاسم سلیمانی کے مقابلے میں سفارت کاری میں بہت کم اثرورسوخ ہے۔‘‘

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ اتوار کو ایک نشری تقریر میں وزیرخارجہ کی افشا آڈیو ریکارڈنگ میں فوج پر تنقید کو تباہ کن اور ناقابل فہم قراردیا تھا۔ انھوں نے کہا:’’ہم نے حال ہی میں ملک کے عہدے داروں میں سے ایک سے کچھ سنا ہے۔یہ بہت ہی حیرت انگیزاور تباہ کن تھا۔‘‘

رہبرِاعلیٰ نے کہا کہ ’’وزارتِ خارجہ کا کام اعلیٰ اداروں اور عہدے داروں کی وضع کردہ پالیسیوں پر عمل درآمد ہے۔دنیا میں کہاں وزارت خارجہ کسی ملک کی خارجہ پالیسی کا تعیّن کرتی ہے۔‘‘

انھوں نے اپنی تقریر میں کسی بھی مرحلے پر وزیر خارجہ جواد ظریف کا نام نہیں لیا تھا۔البتہ یہ کہاکہ وہ امریکا کے دعووں کی ہاں میں ہاں ملا رہے ہیں۔انھوں نے کہا:’’ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہییں جن سے یہ لگے کہ ہم امریکیوں ہی کے مؤقف کا اعادہ کررہے ہیں۔‘‘

جواد ظریف نے خامنہ ای کی تقریر نشر ہونے کے بعد انسٹاگرام پر ایک بیان جاری کیا تھا اور اس میں سپریم لیڈر سے معذرت کی تھی۔انھوں نے لکھا:’’میں بہت زیادہ معذرت خواہ ہوں کہ میرے بعض ذاتی خیالات سے صاحب ذی وقاررہبراعلیٰ کو پریشانی کاسامنا کرنا پڑا ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا:’’خامنہ ای کے بیانات ہمیشہ سے میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے فیصلہ کن عامل کی اہمیت کے حامل رہے ہیں۔ان کے احکام کو تسلیم کرنا خارجہ پالیسی کی ایک ناقابل تردید ضرورت ہے۔‘‘