.

سیٹلائٹ تصاویر نے ایران میں نئی میزائل تنصیبات طشت ازبام کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں مصنوعی سیاروں سے حاصل کی جانے والی تصاویر میں ایران میں نئی میزائل تنصیبات کا پتا چلایا گیا ہے۔ حالیہ سیٹلائٹ امیجری میں ایران کے حاجی آباد علاقے کے قریب میزائل لانچ کرنے کے ایک مشتبہ اڈے کی شناخت کی گئی ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ برائے اسٹریٹجک اسٹڈیز کے مطابق ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب کے زیرانتظام یہ 'سائٹ' ٹھوس ایندھن سے چلنے والے بیلسٹک میزائلوں کے لیے ایران کا پہلا مضبوط میزائل لانچنگ پیڈ ہوسکتا ہے۔

انسٹی ٹیوٹ نے بتایا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیت کو لاحق خطرات کے پیش نظر امکان ہے کہ یہ نئی تنصیبات بین الاقوامی انٹلیجنس اداروں کی توجہ اپنی طرف راغب کرتی رہیں گی۔

اگرچہ ایران نے حالیہ برسوں میں متعدد میزائل کمپلیکس کا انکشاف کیا ہے جو زیر زمین تعمیر کیے گئے ہیں ، لیکن اس نے اب تک حاجی آباد کی تنصیبات کا اعتراف نہیں کیا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے مزید کہا ہےاگرچہ ایران کے بیلسٹک میزائل پلیٹ فارم موبائل نوعیت کے ہیں جو ایک سے دوسری جگہ منتقل کیے جاسکتے ہیں لیکن تہران کچھ مستقل میزائل لانچ سائٹس موجود ہیں۔

سنہ 2017 سے 2019 کے درمیان حاجی آباد کے قریب ایک زیرزمین دائرے کی شکل میں تنصیبات تعمیر کی گئیں۔ امکان ہے کہ ان تک رسائی کے لیے سرنگوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ ڈھانچے دو گروپوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں سے چار سطح زمین سے کم گہرائی میں ہیں اور تین دیگر تنصیبات زیادہ گہرائی میں ہیں۔

ان میں سے ہر تنصیب گول دائرے کی شکل کے ڈھانچے میں ہے۔ ان کا اندرونی بیس میٹر جب کہ ان میں سے بعض کی بیرونی دیواریں پانچ میٹر تک چوڑی ہیں۔