.

چینی راکٹ کا معاملہ نارمل ہے ، مملکت کے لیے کوئی خطرہ نہیں : سعودی ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اس وقت دنیا بھر کی نظریں چین کے "لانگ مارچ فائیو بی" نامی راکٹ پر مرکوز ہیں جو خلا میں اپنے راستے سے ہٹ گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ بے قابو ہونے والا یہ راکٹ زمین کی فضا میں داخل ہو کر کہاں گرے گا۔ جمعرات کے روز چھوڑے جانے والے اس راکٹ کا وزن 21 ٹن ہے۔

سعودی فورم فار اسپیس سائنسز اینڈ ریسرچز "فلک" کے سربراہ ایوب الصبیحی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "چینی راکٹ کے سعودی عرب پر گرنے کے امکانات بہت کم ہیں"۔ ان کے مطابق اس طرح کا واقعہ معمول کی بات ہے اور وقتا فوقتا پیش آتا رہتا ہے۔ اس مرتبہ زیادہ توجہ حاصل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ راکٹ زمین کے مدار میں بے قابو ہو کر داخل ہونے والا اب تک کا سب سے بڑا خلائی جسم ہے۔

الصبیحی کا کہنا ہے کہ "اس راکٹ کے گنجان آباد علاقوں میں گرنے کا امکان بہت کم ہے۔ راکٹ کا بڑا حصہ فضائی غلاف میں جل جائے گا۔ اس کے بعد تھوڑا اور چھوٹا حصہ ہی زمین تک پہنچے گا۔ یہ پانی میں گرے گا جس کا زمین پر تناسب 71% ہے یا پھر یہ غیر آباد علاقوں میں گرے گا جس کا تناسب 27% ہے۔ اس کا مطلب ہوا کہ گنجان آباد علاقوں میں گرنے کے امکان کا تناسب صرف 2% ہے"۔

الصبیحی نے مزید کہا کہ "ہم جانتے ہیں کہ چین اپنے نام سے ایک خاص اسٹیشن قائم کرے گا۔ اس لیے کہ وہ خلاء میں غلبہ حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کی فرضی عمر 2025ء میں اختتام پذیر ہو جائے گی"۔