.

یورپی سیاح کی زبانی "جزیرہ عرب" کا پہلا علمی تعارف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جزیرہ نما عرب یورپی دنیا کے لیے ایک نامعلوم خطہ تھا۔ گذشتہ صدیوں کے دوران یہاں کا دورہ اور سفر کرنے والی شخصیات کے سفرناموں نے جزیرہ نما عرب کے خد و خال اجاگر کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ ساتھ ہی اس خطے میں موجود تاریخی ورثے اور جان کاری کی دولت کو بھی متعارف کرایا۔

مذکورہ علمی اسفار میں مشہور جرمن سیاح "کارستن نیبور" کا سفر بھی شامل ہے۔ سعودی عرب میں کنگ عبدالعزیز پبلک لائبریری نے "نیبور کا جزیرہ عرب کا سفر" نامی کتاب کا عربی ترجمہ شائع کیا ہے۔ اس کتاب میں نیبور نے چھ ساتھیوں کے ساتھ ڈنمارک سے جزیرہ عرب کے سفر کا احوال بیان کیا ہے۔ نیبور کے یہ تمام ساتھی مذکورہ سفر مکمل ہونے سے پہلے ہی بیماری کے سبب دنیا سے رخصت ہو گئے اور کتاب کے مؤلف نے اکیلے ہی سفر مکمل کیا۔ اس سفر کا مقصد پیرس میں سائنس اکیڈمی کی جانب سے اس خطے کے بارے میں پیش کیے گئے سوالات کا جواب دینا تھا جو دنیا کے لیے گم نام تھا۔

کارستن نیبور نے اپنی اس کتاب میں جزیرہ عرب اور اپنے دورے میں شامل متعدد علاقوں اور شہروں کے تفصیلی نقشے شامل کیے۔ نیبور نے يمن، عراق، خليجِ عربی، شام اور فلسطین کا دورہ کیا۔ اس نے یہاں کے لوگوں کی عادات و رواج، ان کے معاشی اور سماجی حالات اور بعض ایسے نقشوں کو شامل کیا جن سے آج تک استفادہ کیا جا رہا ہے۔

مؤلف نے اپنے سفر کے نتائج اور مشاہدات کو کئی کتابوں اور مضامین میں شامل کیا جن میں اہم ترین یہ کتاب ہے جس کا ہم نے یہاں ذکر کیا۔ یہ کسی بھی یورپی سیاح کی جانب سے جزیرہ عرب ، اس کے علاقوں اور شہروں کا پہلا علمی تعارف اور بیان شمار ہوتا ہے۔

کارستن نیبور کے اس سفر نے اس خطے کی اقوام اور تہذیبوں کے حوالے سے سائنسی تحقیق کا وسیع دریچہ کھول دیا۔ نیبور نے اپنے سفرنامے میں یہاں کے لوگوں کی عادات، رواج، مذاہب، حج کے شائر، بعض عرب ممالک کی منظر کشی، ان کی عمارتیں، بازار اور مساجد کا تفصیلی ذکر کیا۔ اس کے نتیجے میں یورپی اکیڈمیاں عربی زبان سیکھنے کی حوصلہ افزائی پر مجبور ہو گئیں۔ ساتھ ہی کئی میدانوں میں تخصص کا دروازہ بھی کھل گیا۔ ان میں جزیرہ عرب کی تاریخ و جغرافیا، انٹرپولوجی، اسلامی علوم اور قرآن کریم کے یورپی زبانوں میں ابتدائی تراجم شامل ہیں۔

عرب ممالک کے بارے میں ٹھوس علمی مواد سے بھرپور اس سفر نے مستشرقین کی نظر کو تبدیل کر ڈالا جو اس سے قبل عرب اور اسلامی تہذیبوں کو نظر انداز کر رہے تھے۔ ساتھ ہی محققین کے لیے موقع فراہم کیا کہ وہ جزیرہ عرب اور مملکت سعودی عرب میں چھپے تاریخ، ثقافت اور تہذیب سے متعلق خزانے کو دریافت کریں۔

یاد رہے کہ کارستن نیبور ایک جرمن ریاضی داں، نقشہ نگار اور دریافت کنندہ تھا۔ وہ 17 مارچ 1733ء کو جرمنی کے ایک گاؤں میں پیدا ہوا اور 26 اپریل 1815ء کو فوت ہو گیا۔ ابتدائی زندگی بطور کاشت کار گزاری۔ بعد ازاں ریاضی اور نقشہ نگاری کے شعبے کی تھوڑی تعلیم حاصل کی۔