.

یورپی طاقتوں کااسرائیل سے یہودی بستیوں کی توسیع کے فیصلہ پرعمل درآمدروکنے کامطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپ کی پانچ طاقتوں نے اسرائیل سے غربِ اردن میں یہودی آبادکاروں کی نئی بستیوں کی تعمیر کے فیصلے پر مزید عمل درآمد روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانس ، جرمنی ، اٹلی ، اسپین اور برطانیہ نے ایک مشترکہ بیان میں اسرائیلی حکومت پر زوردیا ہے کہ ’’وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ہارحوما ای کے علاقہ میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے لیے 540 یونٹوں کی تعمیر کے فیصلے پرمزید عمل درآمد روک دے۔‘‘

انھوں نے اسرائیل سے مزید مطالبہ کیا ہے کہ ’’وہ تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیوں کی توسیع کی پالیسی کو منجمد کردے۔‘‘

ان ممالک نے خبردار کیا ہے کہ ’’اگر مقبوضہ مشرقی القدس (مشرقی یروشلیم) اور بیت لحم کے درمیان واقع ہارحوما میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے فیصلے پر عمل درآمد کیا جاتا ہے تو اس سے مستقبل میں ایک قابل عمل فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات کو مزید نقصان پہنچے گا۔‘‘

فلسطینی مقبوضہ مشرقی القدس کومستقبل میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے قائم ہونے والی اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں جبکہ اسرائیل تمام یروشلیم شہر کو اپنا دائمی اور غیرمنقسم دارالحکومت قراردیتا ہے۔امریکا اس شہر کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرچکا ہے اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تل ابیب سے وہاں امریکی سفارت خانہ بھی منتقل کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں