.

بیت المقدس میں کشیدگی روکنے کے لیے اسرائیل فوری حرکت میں آئے : یورپی یونین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یورپی یونین نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپوں کے بعد بیت المقدس میں حالات مزید بگڑنے سے روکنے کے لیے "فوری طور" پر حرکت میں آئیں۔

ہفتے کے روز جاری بیان میں یورپی یونین کے ترجمان نے کہا "تشدد اور اشتعال انگیزی قابل قبول نہیں ہیں اور تمام فریقوں کے ذمے دار عناصر کا محاسبہ کیا جانا چاہیے ... یورپی یونین (اسرائیلی) حکام پر زور دیتی ہے کہ وہ بیت المقدس میں حالیہ کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری طور پر متحرک ہو"۔

جمعے کی شب مسجد اقصی کے حرم قدسی اور بیت المقدس کے دیگر مقامات پر فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپوں میں 200 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے۔

رمضان مبارک کے آغاز کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی جانب سے رات کے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔ یہ احتجاج اسرائیلی پولیس کی جانب سے عوام اجتماعات کی جگہ پر عائد قیود کے خلاف ہوا۔ حالیہ چند دنوں کے دوران میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا کیوں کہ مشرقی بیت المقدس میں درجنوں فلسطینیوں کے گھر خالی کرانے کا خطرہ درپیش ہو گیا ہے۔

آئندہ دنوں میں فلسطینی اور اسرائیلی جانب مزید شورش زدہ صورت حال کی توقع کر رہے ہیں۔

ہلال احمر کے مطابق زخمیوں میں 88 افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان افراد کو ربڑ کی گولیاں اور کریکروں کے ٹکڑے لگنے سے آنکھوں اور چہروں پر چوٹیں آئی تھیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں کم از کم چھ پولیس اہل کار زخمی ہوئے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ بیت المقدس شہر بالخصوص مسجد اقصی میں پیش آنے والے واقعات کی پوری ذمے داری اسرائیلی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں سے ان کے مکانات خالی کروا کر وہاں اسرائیلی سیادت قائم کرنے سے متعلق اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

ادھر اقوام متحدہ نے جمعے کے روز اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ مشرقی بیت المقدس میں فلسطینیوں کے خلاف جبری انخلاء کی تمام کارروائیاں ختم کر دے۔ تنظیم نے خبردار کیا کہ اسرائیلی افعال "جنگی جرائم" کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب خلیج تعاون کونسل نے بھی بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے جبری ہجرت اور یہودی آباد کاری کی کارروئیوں کی مذمت کی ہے۔

رمضان کے آغاز پر اسرائیل نے لوگوں کے اکٹھا ہونے کی ایک عوامی جگہ بند کر دی تھی۔ فلسطینیوں کا رواج ہے کہ وہ روزے کے اختتام پر اس جگہ اکٹھا ہوتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گذشتہ دو ہفتوں سے جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ تاہم چند روز سے اس میں شدت آ گئی۔

ادھر امریکا کا کہنا ہے کہ اسے پر تشدد واقعات اور بیت المقدس کا علاقہ کرانے کی دھمکی پر شدید تشویش ہے۔ مزید یہ کہ وہ کشیدگی کم کرانے کے لیے جانبین کی قیادت کے ساتھ رابطے میں ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے مطابق ایسی کارروائیوں سے گریز کیا جانا چاہیے جن سے کشیدگی اور تناؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ ان کارروائیوں میں مشرقی بیت المقدس میں گھروں کو خالی کرانا، یہودی آباد کاری کی سرگرمیاں، گھروں کو گرانا اور دہشت گرد کارروائیاں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ حرم قدسی اسلام میں تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

کل جمعے کی شب مسلمانوں کے مسجد اقصی میں نماز عشاء ادا کرنے کے دوران میں اسرائیلی پولیس کی ایک بڑی تعداد وہاں تعینات کر دی گئی۔ اسرائیلی پولیس کے مطابق جھڑپوں کا آغاز اس وقت ہوا جب فلسطینی نوجوانوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا اور شیشے پھینکے۔ ادھر فلسطینی نوجوانوں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے مسجد اقصی کے داخلی راستے پر پہلے نمازیوں کے ایک گروپ پر دھاوا بولا۔