.

عراقی کارکن ایہاب الوزنی کربلا میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے جنوبی شہر کربلا میں نامعلوم مسلح افراد نے معروف سیاسی کارکن اور اکتوبر2019ء میں احتجاجی مظاہروں کو منظم کرنے والے رابطہ گروپ کے رکن ایہاب الوزنی کو گولی مار کر قتل کردیا ہے۔

کربلا گورنری کی پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مار کارروائیاں کی جارہی ہیں۔

الوزنی پر دسمبر 2019ء میں بھی قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اکتوبر2019ء میں عام لوگوں اور سیاسی کارکنان نے عراق میں سیاسی نظام میں اصلاحات اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے ملک گیر احتجاجی تحریک چلائی تھی۔بغداد اور دوسرے شہروں میں کئی روز تک احتجاجی مظاہرے جاری رہے تھے۔

لیکن ایران نواز عراقی ملیشیاؤں نے اس احتجاجی تحریک کے کارکنوں کے خلاف خونیں کریک ڈاؤن کیا تھا اور ان پر قاتلانہ حملے کیے تھے۔اب کہ عراقی کارکنان نے سوشل میڈیا پر ایران نواز ملیشیاؤں ہی کو الوزنی کے قتل کا مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

ایک عراقی کارکن رایا بارازجانی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایہاب الوزنی کو ایران نواز جنگجوؤں نے ان کے آبائی شہر کربلا میں گولی مار کر قتل کیا ہے۔

وہ لکھتی ہیں: ’’عراق کی بدعنوان حکومت کو شرم کرنی چاہیے وہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں سے پُرامن سیاسی کارکنان کو تحفظ مہیا نہیں کرسکتی۔‘‘

ایہاب الوزنی سے قبل گذشتہ ڈیڑھ ایک سال کے دوران میں عراق کے متعدد معروف سیاسی کارکنان کو بھی قتل کیا جاچکا ہے۔گذشتہ سال جولائی میں عراق میں انتہاپسندی کے محقق ہشام الہاشمی کو دارالحکومت بغداد میں دو موٹر سائیکل سواروں نے ان کے گھر سے چند میٹر کے فاصلے پر قتل کردیا تھا۔اگست 2002ء میں جنوبی شہر بصرہ میں نامعلوم مسلح افراد نے عراقی سیاسی کارکن ڈاکٹر ریہام یعقوب کو قتل کردیا تھا۔