.

ماہ صیام کے دوران سعودی ہلال احمر کو 60 ہزار ہنگامی کالز موصول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی طبی امدادی ادارے 'ہلال احمر' کی طرف سے اتوار کے روز جاری کردہ ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ہلال احمر کو 1442 ھ کے رمضان المبارک کے بابرکت مہینے 60 ہزار سے زیادہ ہنگامی کالیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے سے 12،000 کالوں میں ہلال احمر کےطبی عملے کو مدد کے لیے بلایا گیا تھا۔ ہنگامی کالوں کے بعد 6 ہزار افرادکو اسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

سعودی عرب ہلال احمر اتھارٹی برانچ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر احمد الخریصی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سعودی ہلال احمر کا نیٹ ورک اپنی توسیع کے جدید ترین مرحلے سے گذر رہا ہے۔ سنہ 2016 میں ملک بھر میں ادارے کے 80 ہنگامی امدادی مرکز تھے جبکہ موجودہ وقت میں بات ملک بھر میں ان کی تعداد 111 مراکز تک پہنچ گئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سعودی عرب میں پیرامیڈک پہلے اپنی ایمرجنسی رپورٹ کاغذ پر لکھتے تھے۔ ادارے کی ٹیم کو اسپتالوں میں آنے والے مریضوں کے بارے میں صرف وائرلیس سگنل کے ذریعہ معلوم ہوتا یا ایمرجنسی ٹیموں سے پتا چلتا۔ ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ہلال احمر نے ڈیجیٹل ترقی کا سفر شروع کیا ہے۔ آن لائن پیرامیڈک سروس ہلال احمر کی ایک اسمارٹ سروس ہے جس کا مقصد اسپتالوں اور طبی مراکز سے جڑنے کے رابطوں کے امکانات کو بڑھانا اور اسکرین کے ذریعے سعودی عرب کے تمام خطے میں ہنگامی ٹیموں کا پتہ لگانا ہے۔

ایک دوسرے سیاق وسباق میں سعودی ہلال احمر کے صدر ڈاکٹر جلال بن محمد آل العویسی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ہلال احمر انسانی اقدار کو مستحکم اور پھیلانے اور انسانی امداد سے متعلق عوام میں شعور اجاگر کرنے کےلیے کوشاں ہے۔