.

جرات و عزم کے ساتھ اسرائیلی فوجی سے مخاطب فلسطینی لڑکی کی وڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران سوشل میڈیا پر ایک وڈیو کلپ نےدُھوم مچا دی ہے۔ وڈیو میں مقبوضہ بیت المقدس سے تعلق رکھنے والی فلسطینی لڑکی مریم عفیفی کے ہاتھوں میں ہتھکڑی نظر آ رہی ہے اور وہ خود کو گرفتار کرنے والے اسرائیلی فوجی سے بات چیت کر رہی ہے۔ مریم کو اپنے احتجاجی ساتھیوں کے دفاع کے سبب حراست میں لیا گیا۔

مریم عفیفی فلسطینی نوجوانوں کے ایک آرکسٹرا گروپ میں دہرا الغوزہ Double Bass)) بجاتی ہے۔ وڈیو میں مریم پوری جرات اور عزم کے ساتھ اسرائیلی فوجی سے انگریزی میں مخاطب ہو کر پوچھ رہی ہے کہ "مجھ پر الزام کیا ہے ، تم نے مجھے کیوں گرفتار کیا ہے ، میں نے کیا کیا ہے ،،، کیا اس لیے کہ میں نے صرف ایک لڑکی کا دفاع کیا جس کو پیٹا جا رہا تھا یا پھر اس لیے کہ میں ان لوگوں کا دفاع کر رہی ہوں جن کو ان کے گھروں سے نکال دیا جائے گا؟!"۔

مریم کا اشارہ الشیخ جراح کے علاقے کے مکینوں کی جانب تھا۔

مریم نے مزید کہا کہ "سب سے پہلے تم ایک انسان ہو ، تمہارے بھی بال بچے ہیں ، تم ظالم اور جابر کے ساتھ کھڑا ہونا چاہو گے یا پھر حق کے ساتھ ... کیا بچپن میں تم نے یہ ہی خواب دیکھا تھا کہ ایک روز تم زیادتی کرنے والے فریق کے ساتھ کھڑے ہو گے ؟!"

واضح رہے کہ مشرقی بیت المقدس میں کئی ہفتوں سے گڑبڑ اور پر تشدد واقعات دیکھے جا رہے ہیں۔ یہ ہنگامہ آرائی بیت المقدس میں مرکزی عدالت کی جانب سے جاری فیصلے کے بعد سامنے آئی۔ فیصلے میں حکم دیا گیا تھا کہ الشیخ جراح کے علاقے میں فلسطینیوں کی متعدد جائیدادوں کو خالی کرا لیا جائے۔ یہ محلہ اردن نے اُن فلسطینیوں کے ٹھکانے کے طور پر قائم کیا تھا جنہیں 1948ء میں جبری ہجرت پر مجبور کر دیا گیا۔