.

اسرائیل کی بمباری میں فلسطینیوں کی 26شہادتیں؛حماس کے راکٹوں سے دواسرائیلی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی غزہ پر فضائی بمباری میں فلسطینیوں کی شہادتوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے جبکہ حماس اور دوسری فلسطینی تنظیموں کے راکٹ حملوں میں دو اسرائیلی عورتیں ہلاک اور کم سے کم 10 افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غزہ میں حماس کے تحت وزارتِ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ سوموار کی شب کے بعد اسرائیلی فوج نے متعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں نو بچّوں اور ایک خاتون سمیت 26 فلسطینی شہید ہوئے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مرنے والوں میں 16 فلسطینی جنگجو ہیں۔

اسرائیلی فوج نے منگل کے روز بھی غزہ شہر پرمتعدد فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں دوکثیرمنزلہ اپارٹمنٹ عمارتوں کو نشانہ بنایا ہے۔اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ان عمارتوں میں فلسطینی مزاحمت کار روپوش تھے۔اسلامی جہاد نے اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں اپنے تین کمانڈروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے بتایا ہے کہ صہیونی فوج کے بلاتعطل فضائی حملوں میں 122 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل کے جنوبی شہر عسقلان کی جانب راکٹ داغے ہیں جن کے نتیجے میں دوعورتیں ہلاک ہوگئی ہے۔عسقلان میں دو مکانوں پر راکٹ گرے ہیں۔ان میں ہلاک ہونے والی ایک عورت کی عمر 80 سال تھی۔

حماس اور دوسری فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیلی فوج کی مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں عبادت گزاروں کے خلاف گذشتہ کئی روز جاری تشدد آمیز کارروائیوں اور غزہ میں فضائی حملوں کے ردعمل میں اسرائیلی علاقوں پر راکٹ برسائے ہیں۔

عسقلان میں ان ہلاکتوں کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’’حکام نے غزہ کی پٹی میں حماس اور اسلامی جہاد ایسے گروپوں کے خلاف فضائی حملے تیز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔حماس کو اب اس کی توقع کے برعکس سبق سکھایا جائے گا۔

ادھر مصراسرائیل اورفلسطینی گروپوں کے درمیان نئی جنگ بندی کے لیے کوشاں ہے لیکن تشددکا سلسلہ بڑھتا چلا جارہا ہے۔اسرائیلی فوج نے عسقلان میں دو اسرائیلی عورتوں کی ہلاکتوں سے قبل ہی پانچ ہزار ریزرو فوجیوں پر مشتمل کمک کو غزہ کی سرحدپربھیجنے کا اعلان کردیا تھا۔

مصر کے ایک عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ان کا ملک فلسطینی علاقوں میں جنگ بندی کی کوشش کررہا ہے لیکن اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس میں اقدامات سے صورت حال پیچیدہ ہوگئی ہے۔فلسطین کے ایک سکیورٹی عہدے دار نے بھی اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر جنگ بندی کے لیے کوششوں کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی پولیس اور خصوصی فورسز نے سوموارکو’’یوم یروشلیم‘‘کے موقع پر مسجداقصیٰ میں فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔یہ دن اسرائیل کے اس مقدس شہر پر 1967ء کی چھے روزہ جنگ میں قبضے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

فلسطینی انجمن ہلال احمر کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے مسجد اقصیٰ پر دھاوا بول دیا تھا،وہاں موجود فلسطینیوں پر ربر کی گولیاں چلائی تھیں اور اشک آور گیس کے گولے پھینکے تھے۔فلسطینی انجمن ہلال احمر کا کہنا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ میں تشدد کے ان واقعات میں بچّوں سمیت 612 فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔ان میں سے 411 کو اسپتالوں میں داخل کیا گیا ہےاور ان میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔