.

اسلامی جہاد کا غزہ پر اسرائیلی حملوں‌ میں اپنے کمانڈروں کی ہلاکت کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی مزاحمتی تنظیم'اسلامی جہاد' نے آج منگل کو بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ فضائی حملوں میں اس کے دو اہم کمانڈر بھی مارے گئے ہیں۔

اسلامی جہاد کے ایک ذمہ دار ذریعے نے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ غزہ کی پٹی کے مغرب میں اسرائیلی طیاروں نے ایک فلیٹ پر بمباری کی جس کےنتیجے میں وہاں پرموجود تنظیم کے عسکری ونگ سرایا القدس کے دو کمانڈر جاں بحق ہوگئے۔ اس حملے میں اسلامی جہاد کا ایک رہ نما زخمی ہوا ہے۔

طبی ذرائع کے مطابق زخمی فیلڈ کمانڈر کو غزہ کے الشفا اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ جب کہ جاں بحق ہونے والے دو کمانڈروں کی میتوں اور 8 زخمیوں کواسپتال لایا گیا ہے۔ زخمیوں میں ایک خاتون اور اس کا بچہ بھی شامل ہیں۔ زخمیوں کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے۔

ادھر اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے تنظیم کے ایک مرکز پربمباری کی ہے جس میں کمانڈر جوابی کارروائی کی تیاری کررہے تھے۔ اسرائیلی بمباری میں متعدد جنگجو جاں‌بحق اور کئی لاپتا ہیں تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔

غزہ میں حماس کے زیرانتظام وزارت صحت کے مطابق سوموار اور منگل کے روز اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی پر کی گئی بمباری میں اب تک9 بچوں اور ایک خاتون سمیت 25 فلسطینی شہید اور 125 زخمی ہوچکے ہیں۔

قبل ازیں سوموار کے روز فرانسیسی خبر رساں ادارے نے بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں حماس کے ایک اہم فیلڈ کمانڈر محمد عبداللہ فیاض بھی مارے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ‌کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے داغے گئے 7 راکٹ القدس اور اس کے اطراف میں گرےہیں جس کے بعد اسرائیلی فوج نےغزہ کی پٹی پر وحشیانہ بمباری شروع کردی تھی۔