.

بیت المقدس میں اسرائیلی بربریت ، سعودی عرب کی جانب سے شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد اقصی کی حرمت پامال کرنے اور نمازیوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے سلسلے میں حالیہ حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس منظم غنڈہ گردی اور بدمعاشی کی لپیٹ میں بچوں سمیت سیکڑوں فلسطینی آئے۔

پیر کے روز جاری بیان میں سعودی عرب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمے دار ٹھہرایا جائے۔ مملکت کے مطابق اسرائیلی کارستانیوں کو فوری طور پر روکے جانے کی ضرورت ہے جو بین الاقوامی منشوروں کے مخالف ہیں۔

بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ مملکت اس موقع پر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑی ہے۔ وہ اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور مسئلہ فلسطین کے ایک منصفانہ اور جامع حل کے لیے موجودہ کوششوں کو سپورٹ کرتی ہے۔ مملکت اس بات کی خواہاں ہے کہ فلسطینیوں کے لیے بین الاقوامی قرار دادوں اور عرب امن منصوبے کے مطابق 1967ء کی سرحدوں پر ایک خود مختار ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔

جھڑپیں اور شورش

یاد رہے کہ مسجد اقصی کے صحنوں میں کئی روز سے فلسطینی نمازیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی جا رہی ہیں۔ پولیس نے پیر کی صبح مسجد پر دھاوا بول کر نمازیوں پر حملہ کیا تھا۔

مشرقی بیت المقدس میں کئی ہفتوں سے شورش اور پر تشدد کارروائیاں نظر آ رہی ہیں۔ اس کا آغاز الشیخ جرّاح کے علاقے میں بعض اراضی پر بنے ان گھروں کے معاملے سے ہوا جن میں چار فلسطینی خاندان سکونت پذیر ہیں۔ یہودی بستی کی انجمن ان گھروں کو خالی کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ بیت المقدس میں مرکزی عدالت نے مذکورہ علاقے میں فلسطینیوں کی متعدد جائیدادوں کو خالی کرانے کا فیصلہ جاری کیا تھا۔ اردن نے 1948ء میں جبری ہجرت کا شکار ہونے والے فلسطینیوں کو ٹھکانا دینے کے لیے یہ محلہ آباد کیا تھا۔ یہاں کے فلسطینیوں کے پاس کرائے کے معاہدے بھی موجود ہیں۔