.

عید الفطر کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں 'عقال' کی طلب بڑھ جاتی ہے

سعودی عرب: 'عقال' کی 90 سال پرانی تاریخ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیجی ممالک کے روایتی لباس میں 'عقال' کو اہم مقام حاصل ہے۔ آپ نے عرب مردوں کو سر پراوڑھے رومال کے اوپر گول کپڑا باندھے دیکھا ہوگا۔ مقامی سطح پر اسے 'عقال' کا نام دیا جاتا ہے۔

'عقال' عرب بالخصوص خلیجی ممالک کے قومی لباس،مقامی کلچر اور ثقافت کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ سعودی عرب میں آج سے 90 برس قبل 'عقال' کا استعمال شروع ہوا۔ عقال عرب دنیا کےثقافتی اور سماجی ورثےکا حصہ ہے جس پر بجا طور پر فخر کیا جاتا ہے۔ خلیجی ممالک میں تو عقال کو قومی لباس کا جزو لازم تصور کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے تمام علاقوں میں بسنے والے عرب باشندے عقال کو لباس کےلازمی جزوکے طور پر استعمال کرتےہیں۔ اگرچہ اس کے رنگوں، حجم اور شکلوں میں فرق بھی ہے مگر ماہ صیام بالخصوص عیدالفطر کی آمد سے قبل بازاروں میں 'عقال' کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

عقال کی تاریخ
عقال کی تاریخ کے بارے میں سعودی مورخ ولید العبیدی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ عقال تاریخی ثقافت کا حصہ ہے۔ ایک عرب مرد کی شان وشوکت اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ اپنے سر پرعقال نہ پہنے۔ اس کے علاوہ عقال خلیجی اور عرب دنیا کے تشخص اور اس کے ساتھ وابستگی کی بھی علامت ہے۔ پرانے زمانے میں عرب ایک سے دوسرے مقام پر سفر کے دوران آرام وراحت کے لیے اپنے سر کو عقال جیسے کپڑے کے ساتھ باندھ دیتے۔ آج کے جدید دور میں اسے 'عقال' کا نام دیا جاتا ہے۔

العبیدی نے بتایا کہ عقال کی تیاری کے لیے بھیڑ کی اون استعمال کی جاتی ہے اور اسے روایتی دست کاری سے تیار کیاجاتا رہا ہے۔ جدید دور میں اسے دھاگے، ریشم اور روئی سےتیار کیا جاتا ہے۔ آج کے دور میں اس کی تیاری کے دوران اس پر نقوش بھی بنائے جاتے ہیں۔

ایک عقال ساز اسامہ المصباحی نے بتایا کہ عقال کی کئی اقسام مشہور ہیں۔ ان میں بھیڑ کی اون، ریشم اور دھاگے سےتیار کیا جاتا ہے۔ رمضان المبارک اور عید کےایام میں اس کی طلب بڑھ جاتی ہے۔ مارکیٹ میں اس کی قیمت 50 ریال سے 150 ریال کے درمیان ہے۔