.

مسجد حرام میں ختم قرآن کے موقع پر روح پرور اجتماع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ختم قرآن کے موقع پر مسجد حرام کے در و دیوار نمازیوں اور عمرہ زائرین کی "آمین" سے گونج اٹھے۔ اس دوران میں آنکھیں اشک بار نظر آئیں اور جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے۔

نماز کی امامت مسجد حرام کے امام و خطیب ڈاکٹر عبدالرحمن السدیس نے کی۔ اس مبارک رات میں انہوں نے مسلمانوں کے لیے مغفرت اور جہنم سے آزادی ، بلاد حرمین اور اسلامی ممالک کی حفاظت اور کرونا کی وبا سے نجات کے لیے خصوصی رقت آمیز دعائیں کیں۔

ختم قرآن کے روز نمازیوں نے نماز عشاء اور تراویح کی ادائیگی کے لیے سویرے سے ہی مسجد حرام کا رخ کر لیا۔ اس موقع پر مکمل احتیاطی اقدامات اور حفاظتی تدابیر کا اہتمام کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی نمازیوں کے بیچ مقررہ فاصلے کو بھی یقینی بنایا گیا۔

حرمین کے امور کی انتظامیہ میں فنی اور خدماتی شعبے کے سکریٹری محمد الجابری کے مطابق آخری طاق رات کے موقع پر کیے گئے خصوصی اور بھرپور انتظامات کا مقصد معتمرین اور نمازیوں کے لیے محفوظ اور پر سکون ماحول فراہم کرنا تھا۔ ایسا ماحول جہاں وہ روحانی فضاؤں میں خشوع اور سکون کے ساتھ اپنی عبادت اور مناسک ادا کر سکیں۔

الجابری نے بتایا کہ مسجد حرام کو روزانہ 10 مرتبہ دھویا جا رہا ہے۔ اس عمل میں 4000 سے زیادہ مرد اور خواتین کارکنان شریک ہیں۔ تطہیر کے ہر عمل میں 80 ہزار لیٹر سے زیادہ خصوصی مواد اور 1600 لیٹر خوشبو کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں حرم شریف میں ہاتھوں کو سینی ٹائز کرنے کے لیے 500 سے زیادہ آلات نصب کیے گئے ہیں۔ یہ آلات سینسر کی خصوصیت کے ساتھ کام کرتے ہیں۔

السقیا پروجیکٹ کے سلسلے میں طاق رات کے دوران مین انتظامیہ کی جانب سے نمازیوں اور معتمرین میں آب زمزم کی 2 لاکھ سے زیادہ بوتلیں تقسیم کی گئیں۔

الجابری کے مطابق مسجد حرام میں آنے والوں کی خدمت کے واسطے 8000 چھوٹی لاریوں کا انتظام کیا گیا ہے۔ ان میں 5000 ہزار سادی اور 3000 برقی لاریاں ہیں۔ انتظامیہ نے مسجد حرام کے دروازوں پر 100 سے زیادہ نگراں تعینات کیے ہیں جو نمازیوں کا استقبال کر کے ان کے لیے مختص جگہاؤں کی جانب رہ نمائی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں نمازیوں اور معتمرین کی آمد و رفت کو منظم رکھنے میں سیکورٹی اہل کاروں کی معاونت کرتے ہیں۔