.

امریکا نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ سات افراد پر پابندیاں عاید کردیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ سے وابستہ سات افرادپر پابندیاں عاید کردی ہیں۔ان پرامریکا کی پہلے سے عاید کردہ پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حزب اللہ کو کروڑوں ڈالر مہیا کرنے کا الزام ہے۔امریکی وزیر خارجہ نے دنیا کے دوسرے ملکوں سے بھی حزب اللہ کے خلاف پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے محکمہ خزانہ کی حزب اللہ کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد کہا ہے کہ ’’حزب اللہ جس طرح امریکا، ہمارے اتحادیوں ،مشرقِ اوسط اور دنیا بھر میں ہمارے مفادات کے لیے خطرہ بنی ہوئی ہے،اس کے پیش نظردنیابھر کے ملکوں کواس ملیشیا کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کرنے چاہییں اور وہ اس کے سہولت کار نیٹ ورکس کو توڑیں۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’ہم یورپ ، جنوبی اوروسطی امریکا سے تعلق رکھنے والے ممالک کے حالیہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ کے خلاف اقدامات کو سراہتے ہیں اور دوسری حکومتوں پر زوردیتے ہیں کہ وہ بھی ان ممالک کی تقلید کریں۔‘‘

امریکا کے علاوہ متعدد یورپی اور خلیجی ممالک نے حالیہ برسوں کے دوران میں حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردیا ہے۔خودامریکا کی دونوں جماعتوں نے حزب اللہ کے خلاف سخت پابندیوں کی منظوری دی ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے قبل ازیں منگل کو حزب اللہ اور اس کے مالیاتی بازو’’القرض الحسن‘‘ سے وابستہ سات افراد پر پابندیاں عاید کی ہیں۔اس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’یہ افراد حزب اللہ کو رقوم مہیا کررہے تھے اور لبنان کے مالیاتی اداروں کے ساتھ بھی لین دین جاری رکھے ہوئے تھے۔انھوں نے اس انداز میں اپنے کاروباروں کو مستحکم کیا ہے جس سے لبنانی ریاست کا استحکام خطرے سے دوچار ہوگیا ہے۔‘‘

امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے بیرونی اثاثہ کنٹرول کی ڈائریکٹرآندریا گاکی کا کہنا ہے کہ ’’حزب اللہ نے لبنان کے شعبہ مالیات کے سوتے خشک کردیے ہیں جبکہ ملک کو خود مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔‘‘

امریکا کی نئی پابندیوں کی زد میں آنے والے حزب اللہ کےہمدردوں پر القرض الحسن کو 50 کروڑ ڈالرمنتقل کرنے کا الزام ہے۔انھوں نے امریکا کی حزب اللہ کے خلاف عاید کردہ سابق پابندیوں کو توڑتے ہوئے یہ رقوم منتقل کی تھیں۔امریکی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کے لیے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔

واضح رہے کہ امریکا نے2017ء میں حزب اللہ کودہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کےالزام میں بلیک لسٹ کردیا تھا اور اس سے وابستہ کارکنان ، لیڈروں اور اداروں پر پابندیاں عاید کرنا شروع کی تھیں۔امریکا اب تک حزب اللہ ملیشیا اور اس کے سیاسی بازوسے تعلق رکھنے والے پچاس سے زیادہ ارکان اور بیسیوں دوسرے افراد پر پابندیاں عاید کرچکا ہے۔