.

ایران : صدارتی انتخابات کے لیے احمدی نژاد کے کاغذات نامزدگی جمع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی ٹیلی وژن کے مطابق سابق صدر محمود احمدی نژاد نے آئندہ ماہ 18 جون کو مقررہ صدارتی انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا دیے ہیں۔ ٹی وی پر نشر کیے گئے مناظر میں احمدی نژاد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ وزارت داخلہ میں مرکزِ اندراج کی جانب جاتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔

احمدی نژاد نے حالیہ چند برسوں میں اپنی شخصیت کی سخت گیر تصویر کو نمایاں کرتے ہوئے خود کو زیادہ وسطی موقف کے حامل امیدوار کے طور پر پیش کیا ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر اس کی بد انتظامی کے سبب تنقید بھی کی ہے۔

کل منگل کے روز ایران کے دارالحکومت تہران میں آئندہ صدارتی انتخابات میں نامزدگی کے خواہش مند افراد کا اندراج شروع ہو گیا۔ اندراج کا سلسلہ ہفتے کے روز تک جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پیر کے روز صدر روحانی نے انتخابات میں نامزدگی سے متعلق شوری نگہبان کی جانب سے اعلان کردہ شرائط کو مسترد کر دیا تھا۔ وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے ہدایت جاری کی ہے کہ امیدواروں کے اندراج کی درخواستوں کو موجودہ انتخابی قانون کے مطابق قبول کیا جائے۔ انہوں نے باور کرایا کہ قانون میں کسی بھی قسم ک تبدیلی کا فیصلہ پارلیمنٹ کی جانب سے جاری ہونا چاہیے۔

شوری نگہبان کی جانب سے گذشتہ ہفتے جاری کی گئی شرائط کے مطابق نامزد امیدوار کی عمر 45 سے 70 برس کے درمیان ہو ، تعلیمی قابلیت کم از کم ماسٹرز یا اس کے مساوی ہو ، انتظامی امور سنبھالنے کا کم از کم چار سال کا تجربہ ہو اور صاف ستھرا پولیس ریکارڈ ہو۔ شوری نگہبان نے ایسے وزراء ، صوبوں کے گورنروں اور ایسے شہروں کے میئروں کو بھی بطور امیدوار نامزدگی کی اجازت دی ہے جن کی آبادی بیس لاکھ سے زیادہ ہے۔ فوج سے تعلق رکھنے کی صورت میں امیدوار کم از کم میجر جنرل کا عہدہ رکھا ہو۔

صدارتی انتخابات میں نامزدگی کے لیے جن شخصیات نے سرکاری طور پر اپنے ارادے کا اظہار کیا ہے ان میں ایرانی پاسداران انقلاب کے "خاتم الانبیاء" صدر دفتر کے سابق کمانڈر سعید محمد، القدس فورس کے کمانڈر کے اقتصادی معاون اور سابق وزیر تیل رستم قاسمی اور صدر روحانی کے پہلے دور میں وزیر دفاع کے منصب پر فائز اور عسکری صنعت کے لیے رہبر اعلی خامنہ ای کے مشیر حسین دہقان شامل ہیں۔