.

امریکا نے اسرائیلی حملوں اور فلسطینیوں کی راکٹ باری کے بعد سفارت کاری تیزکردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے غزہ پراسرائیل کے فضائی حملوں میں شدّت اور ان کے میں فلسطینیوں کی اسرائیلی شہروں پر راکٹ باری کے بعد سفارت کاری تیز کردی ہیں۔

امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلینکن نے اسرائیلی فلسطینی امور کے لیے اپنی ایلچی ہادی عمرو کو خطے کے دورے پر روانہ کیا ہے تاکہ وہ اسرائیلی اور فلسطینی حکام سے جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے بات چیت کرسکیں۔

ٹونی بلینکن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر بات بھی کی ہے۔انھوں نے اسرائیل پر راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے لیکن غزہ پر اسرائیلی فوج کے فضائی حملوں کے بارے میں کچھ نہیں بولا اور صرف یہ کہا ہے کہ امریکا فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے امن وسلامتی سے رہنے کی حمایت کرتا ہے۔

اسرائیلی لڑاکا جیٹ نے بدھ کی شب بھی غزہ کی پٹی میں فضائی حملے جاری رکھے ہوئے تھے۔ان میں کم سے کم 50 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غزہ کی حکمراں حماس نے ان حملوں میں اپنے 16 کمانڈروں کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی حکام یہ دعوے کررہے ہیں کہ غزہ پر فضائی بمباری میں حماس کے جنگجوؤں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس کا ہدف شہری آبادی نہیں ہے۔ دوسری جانب حماس نے کہا ہے کہ اس نے فضائی حملوں کے جواب میں بدھ کو اسرائیلی علاقوں کی جانب 130 راکٹ فائر کیے ہیں۔

درایں اثناء امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے بھی اپنے اسرائیلی ہم منصب بینی گینز سے فون پر گفتگو کی ہے اور انھوں نے بھی وزیرخارجہ بلینکن کی طرح امریکا کی جانب سے اسرائیل کے دفاع کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔