.

غزہ میں گھمسان کی جنگ، اسپتالوں میں زخمیوں کی گنجائش ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کی تازہ بمباری کے نتیجے میں مزید کئی فلسطینی شہید اور زخمی ہوگئے ہیں جس کے بعد پانچ دن سےجاری لڑائی میں شہدا کی تعداد 119 ہوچکی ہے جب کہ 830 فلسطینی زخمی ہوچکے ہیں۔

دوسری جانب العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں‌ کے نامہ نگاروں کے مطابق جمعہ کے روز غزہ کی سرحد پر اسرائیلی فوج کی بڑی تعداد کو غزہ کی سرحد پر جاتے دیکھا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز جنوبی غزہ میں خان یونس کے مقام پر کئی مقامات پر بمباری کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں بندرگاہ کے قریب پولیس کے ہیڈ کواٹر پر بنباری کی ہے۔

اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی میں الشجاعیہ کے مقام پر حماس کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ گروپ اسرائیل پر راکٹ حملوں کی تیاری کررہا تھا۔

العربیہ چینل کے نامہ نگار کے مطابق غزہ کی پٹی میں اسپتال زخمیوں سے بھر گئے ہیں اور ان کے پاس مزید زخمیوں کےعلاج کے لیے گنجائش نہیں رہی ہے۔

اسرائیل نے بڑی تعداد میں‌فوج غزہ کی سرحد پر پہنچا دی ہے جس کے بعد کسی بھی وقت زمینی کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔

ادھر دوسری جانب غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں‌نے یہودی کالونیوں‌پر متعدد راکٹ داغے ہیں۔

خبر رساں ادارے 'اے پی' کے مطابق غزہ کی شمالی سرحد پر اسرائیلی فوج نے بھاری توپ خانہ اور ٹینک منتقل کردیے ہیں جس کے بعد کسی بھی وقت بری کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی چینل12 کے مطابق اسرائیلی فوج کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ تازہ بمباری میں حماس کے 20 سرکردہ رہ نمائوں کو قتل کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ غزہ کی پٹی میں میزائل سازی کے بیشتر نیٹ ورک اور سرنگیں تباہ کردی گئی ہیں۔

ادھر حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے صحرائے نقب میں اسرائیل کے ایک کیمیائی کار خانے پر خود کش ڈرون طیاروں سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے حماس کے متعدد خود کش ڈرون مار گرائے ہیں۔

العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق گذشتہ شب حماس کی طرف سے اسرائیلی علاقوں پر 200 راکٹ داغے گئے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ گذشتہ سوموار سے اب تک غزہ کی پٹی سے 2 ہزار گولے یا راکٹ داغے گئے ہیں۔