.

آزاد فلسطینی ریاست کےقیام تک خطے میں دیر پا امن قائم نہیں ہوسکتا: فلسطینی ایوان صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی ایوان صدر نے باور کرایا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کےقیام کے لیے ایک ایسی آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ناگزیر ہے جس میں مشرقی بیت المقدس کو اس کا دارالحکومت تسلیم کیا جائے۔

ایوان صدر کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ عالمی برادری ، سلامتی کونسل، گروپ چار اور مسلم ممالک ملک کر اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں جاری وحشیانہ بمباری روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں ایک نہتے فلسطینی خاندان کے تمام افراد کو بمباری کرکے بے دردی کے ساتھ شہید کرنے کےواقعے نے ثابت کیا ہے کہ اسرائیلی ریاست تمام بین الاقوامی قوانین اور ضابطوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کررہا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہےکہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی ریاست کے جرائم پر خاموش نہیں رہ سکتے۔ تل ابیب کو نہتے اور معصوم شہریوں کے قتل عام کا حساب دینا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ جو ممالک اور قوتیں اسرائیل کے دفاع کے حق کی حمایت کرتی ہیں وہ صہیونی ریاست کو جرائم اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام، فلسطینیوں کو بے گھر کرنے،جبری ھجرت، املاک کی تباہی ، تشدد اور نفرت پراکسا رہی ہیں۔

انہوں نے اسرائیل پر غزہ کی پٹی میں جاری وحشیانہ بمباری روکنے اور بین الاقوامی قراردادوں پرعمل درآمد کو یقینی بنانے پر زور دیا۔

خیال رہے کہ فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج گذشتہ 6 دن سے مسلسل وحشیانہ بمباری جاری رکھے ہوئے ہے جس کے نتیجےمیں اب تک سیکڑوں افراد شہید اور زخمی ہوچکے ہیں۔