.

اسرائیل کا غزہ میں ایک تین منزلہ فلیٹ پر فضائی حملہ، ایک ہی خاندان کے 10 افراد شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ہفتے کی صبح غزہ کی پٹی پر ایک مرتبہ پھر کی جانے والی بمباری کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 10 افراد لقمہ اجل بن گئے۔

میڈیکل ذرائع نے بتایا کہ ابو حطاب فیملی کے آٹھ بچے اور دو خواتین شاطی مہاجر کیمپ میں ایک تین منزلہ عمارت پر اسرائیلی حملے میں اس وقت جام شہادت نوش کر گئے جب ان کا گھر فضائی حملے میں ملبے کا ڈھیر بن گیا۔

العربیہ کے نامہ نگار نے بتایا کہ بمباری کے بعد اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ انہوں نے الرمالہ کے علاقے میں حماس کے سکیورٹی ہیڈ توفیق ابو نائم کے مکان کو نشانہ بنایا ہے۔ یہ علاقہ الشاطی مہاجر کیمپ کے قریب واقع ہے۔ تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ حملے کے وقت وہ اپنے گھر پر موجود تھے یا نہیں۔

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ انھوں نے غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائی کے دوران جمعہ کے روز غزہ کے اندر 150 اہداف پر 40 منٹ کے اندر 450 میزائل داغے ہیں۔

امریکی سفارت کار ھادی عمر جمعہ ہی کے روز خطے میں پہنچے ہیں۔ ان کی آمد کا مقصد امریکا کی جانب سے کشیدگی میں کمی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔ العربیہ نامہ نگار کے مطابق انھوں نے اسرائیلی سیکیورٹی حکام سے اپنی ملاقاتوں سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

درایں اثنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس اتوار کے روز منعقد ہو گا۔

ایک مصری عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسرائیل پہلے ہی مصر کی جانب سے ایک سال کی مدت کے لیے جنگ کی تجویز مسترد کر چکا ہے جبکہ حماس نے اس تجویز پر رضا مندی ظاہر کی تھی۔

حماس نے سیز فائر پر رضا مندی کے حوالے سے اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ العربیہ نامہ نگار کے مطابق حماس چاہتی ہے کہ حالیہ تنازع کے فلیش پوائنٹ مشرقی بیت المقدس کے علاقے الشیخ جراح سے فلسطینیوں کی جبری بیدخلی سے اسرائیل باز رہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کو آزادانہ عبادت کی اجازت دی جائے اور اسرائیل، غزہ کی پٹی پر اپنے فضائی حملے فوری طور پر بند کرے۔