.
العربیہ خصوصی رپورٹ

غزہ میں کشیدگی میں‌ کمی کی نئی کوششیں، عن قریب جنگ بندی کے امکانات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک ایسے وقت میں جب اسرائیلی آرمی چیف آویو کوچاوی نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائی کو اگلے مراحلے میں منتقل کر رہی ہے، العربیہ اور الحدث ٹی وی چینلوں کو اپنے ذرائع سے خبر ملی ہے کہ غزہ میں جاری کشیدگی کم کرانے کی نئی کوششیں شروع ہوئی ہیں جس کے بعد غزہ میں عن قریب فائر بندی کا امکان بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ غزہ کی پٹی میں فائر بندی کی نگرانی مصر اور امریکا کریں‌ گے۔ اس حوالے سے امریکاو اسرائیل کے ساتھ اور مصر فلسطینی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں طویل جنگ بندی کی بات بھی شامل ہے۔ مصر اور امریکا سمیت کئی دوسرے ممالک حماس اور اسرائیل کے درمیان طویل جنگ بندی کا تحریری معاہدہ کرانا چاہتے ہیں۔ اس حوالے سے جلد ہی مصر کا ایک وفد جنگ بندی کا پروگرام لے کر تل ابیب جائے گا۔

جنگ بندی منصوبے میں غزہ میں تعمیر نو اور تعمیراتی موادی لے جانے کی اجازت دینے کی تجویز بھی شامل ہو گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنگ بندی کی تجاویز کے باوجود فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان مصر کی ثالثی کی کوششیں کامیاب نہیں‌ ہوئی ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ غزہ میں جاری کشیدگی روکنے کے لیے فائر بندی رواں ہفتے کے آغاز میں ہو سکتی ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت مصر کی طرف سے جنگ بندی کی تجویز کو پہلے ہی مسترد کر چکا ہے۔ مصری حکومت کا ایک وفد جمعرات کو تل ابیب سے واپس قاہرہ چلا گیا ہے۔ مصری وفد نے غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی بری کارروائی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مصر نے اسرائیل کی طرف سے تعاون سے انکار کے بعد صہیونی ریاست کے ساتھ تمام معاملات منجمد کرنے کی دھمکی دی تھی۔