.

غزہ پر اسرائیل کی جارحیت؛سعودی عرب نے اوآئی سی کا اجلاس طلب کر لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اسرائیل کی غزہ پر مسلح جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونےو الی صورت حال پر غور کے لیے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کا اتوار کو اجلاس طلب کر لیا ہے۔

اس اجلاس میں اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر فضائی حملوں اور مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجدِ اقصیٰ میں صہیونی سکیورٹی فورسز کی فلسطینی عبادت گزاروں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں پر غور کیا جائے گا۔

سعودی عرب نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اتوار کو اوآئی سی کے 57 رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے ورچوئل اجلاس کی میزبانی کرے گا۔اس میں حالیہ دنوں میں مسجد اقصیٰ کے تقدس کی پامالی کے معاملہ پر بالخصوص تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

الاقصیٰ مسلمانوں کے نزدیک تیسرا متبرک مقام ہے اور یہ مسلمانوں کا پہلا قبلۂ اوّل ہے۔دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک مسجد اقصیٰ کا تقدس ایک حساس اور جذباتی موضوع ہے۔

واضح رہے کہ 51 سال قبل ایک یہودی انتہاپسند کے مسجد اقصیٰ پرآتش گیر مواد سے حملے کے ردعمل میں اوسی آئی معرض وجود میں آئی تھی۔تب اس کا نام اسلامی کانفرنس تنظیم تھا۔بعد میں اس کا نام تبدیل کرکے اس کو اسلامی تعاون تنظیم کردیا گیا تھا۔

مقبوضہ بیت المقدس میں جس پہاڑی چوٹی پر الاقصیٰ واقع ہے،یہ یہود کے نزدیک بھی ایک مقدس مقام ہے، وہ اس جگہ کو ٹیمپل ماؤنٹ کا نام دیتے ہیں۔بعض یہودی اور ایونجلیکل عیسائی اس جگہ یہود کے لیے ایک نیا صومعہ تعمیر کرنے کی وکالت کرتے ہیں جبکہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ اس صورت میں الاقصیٰ کا تقدس پامال ہوگا۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی مسجد اقصیٰ میں گذشتہ ہفتے تشدد آمیز واقعات کے بعد شروع ہوئی تھی۔اسرائیلی فورسز نے احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پرطاقت کا وحشیانہ استعمال کیا تھا۔اس کے ردعمل میں غزہ سے حماس اور دوسری تنظیموں نے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے تھے۔

اسرائیلی فوج نے جواب میں گذشتہ پانچ روز میں غزہ پرسیکڑوں فضائی حملوں کیے ہیں۔ گذشتہ سوموار سے اسرائیلی فوج کے غزہ کی پٹی پرفضائی حملوں اور توپ خانے سے گولہ باری سے 139 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان میں 39 بچے بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ 1000 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔اسرائیلی فوج کی غزہ پر تباہ کن بمباری سے کئی کثیرمنزلہ عمارتیں تباہ ہوچکی ہیں۔