.

گھوڑوں کی تصاویر کو 'ہندسی' (انجینیرنگ) آرٹ میں بدلنےوالے سعودی آرٹسٹ سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کےایک نوجوان آرٹسٹ اور فائن آرٹ کے طالب علم نے'آرٹ اسکول' کو ایک نئی جہت سے روش ناس کرتے ہوئے گھوڑوں کی تصاویر کو انجینیرنگ کی مختلف اشکال کے ذریعے مجسم کرکے ایک اس آرٹ کو ایک نئی انفرادیت دی ہے۔ سعودی آرٹسٹ نے حقیقت اور فرضی اشکال کا ایسا حسین امتزاج قائم کیا ہے جس نے آرٹ کے شوقین حضرات کی غیرمعمولی توجہ حاصل کی ہے۔

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹ 'خالد آل بخیت' نے العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہر آزاد آرٹسٹ کو اپنی سوچ کے ساتھ اپنے لیے ایک خاص پہچان اور انفرادیت قائم کرنا ہوتی ہے۔ تاکہ آرٹ کا ایک شوقین، ایک عام ناظر اور ایک ناقد اس کی حقیقت کو اپنے مخصوص زایوں کے مطابق سمجھ سکے۔ تاہم یہ عمل بہت سے مراحل ، تجربات اور طویل مشقوں کے بعد ہی حاصل ہوپاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہندسی طریقہ کار میں میرے تمام فنکارانہ آئیڈیاز شامل ہیں۔ نقوش اس انداز کا حتمی نتیجہ ہو سکتا ہے جسے مصور استعمال کرتا ہے اور وہ فائن آرٹ کے مختلف نمونوں میں دیکھا جاسکتا ہے۔

آل بخیت نے کہا کہ میرا فنکارانہ مشن بین الاقوامی فورموں میں بھرپور شرکت اور آرٹ کے پہلو سے متعلق 2030 کے وژن کے اہداف کی عکاسی کرتا ہے۔

آل بخیت نے واضح کیا کہ آرٹسٹوں نے ہمیشہ اپنے اپنے طریقوں کے ذریعے گھوڑوں کو پینٹ کیا ہے جبکہ میں نے اسے ایک خاص فنکارانہ آئیکون بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ گھوڑے کی پینٹنگز پر مشتمل ایک پوری نمائش لگائی جس میں سیدھی لکیروں، جیومیٹری کے طرز کے متقاطع خطوط،آرٹ کی اشکال میں مختلف درجے کے ایک ہی رنگ کا استعمال کیا۔ آرٹ کے اس نمونے میں کوئی ایک منحنی خط استعمال نہیں کیا گیا۔

سعودی آرٹسٹ نے مزید کہا کہ میں ہندسی لائنوں کے استعمال میں ایک انوکھا امپرنٹ رکھتا ہوں۔ہر وہ چیز جو مجھے ایک فنکار کی حیثیت سےمتاثر کرتی اور میرے دل کو بھاتی ہے تو میں اسے اپنے مخصوص انداز میں اسے پینٹنگ کی شکل میں‌ڈھال دیتا ہوں۔ اس نے بتایا کہ میری انجینیرنگ پینٹنگز میں سے ایک طائف بلدیہ نے منتخب کی۔