.

مصرمیں شادی کے اخراجات کم کرنے کی مہم کے دوران چشم کشا واقعات کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں چار نوجوان سماجی کارکن خواتین نے ملک کے طول وعرض میں شادی کے اخراجات کم کرنے کے لیے ایک رضا کارانہ مہم شروع کی ہے۔ اس مہم کی روح رواں خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی یہ مہم کئی حوالوں سے انتہائی معلومات افزا اور حیران کن واقعات سے بھرپور ہے۔ مہم کے دوران انہیں مصر میں عائلی زندگی سے متعلق کئی دلچسپ واقعات بھی دیکھنےکو ملے۔ ان میں بیشتر واقعات لوگوں‌کے رویے سےمتعلق ہیں جس کے نتیجے میں عموما شادی بیاہ کا بندھن زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتا۔ اس کے علاوہ اس مہم کے دوران یہ معلوم ہوا ہےکہ قرض لے کر شادی کرنے والے بہت سے مرد قرض ادا نہ کرنے پر قید وبند کی صعوبتیں اٹھانے پرمجبور ہوتے ہیں۔

یہ مہم بسنت اشرف ، نادین عمرو ، سلمیٰ ھشام اور امیرہ عمرو نے شرو کی ہے۔ یہ چاروں اکتوبر سائنس یونیورسٹی کی طالبات ہیں۔

اپنی اس میم میں انہوں نے شہریوں کو شادی کے اخراجات کم کرنے اور شادی بیاہ کو سادگی سے منانے کی ترغیب دینے کا مشن شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو شادی بیاہ کے موقعے پر پانی کی طرح پیسہ بہانے کے بجائے اخلاقیات اور اقدار پر توجہ دینی چاہیے تاکہ شادی بیاہ آسان ہو اور وہ شادی کرنے والے جوڑے پر بوجھ نہ بن جائے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مہم کی رکن نادین عمرو نے بتایا کہ ان کی مہم کا اصل مقصد شادی بیاہ کی مشکلات کے حوالے سےلوگوں کو آگاہی فاہم کرنا۔ مائوں، بزرگوں اور خاندانوں کو باورکرانا کہ شادی سادگی سے بھی ہوسکتی ہے۔ ہرخاندان کو شادی کے موقعے پراپنے مالی حالات کو دیکھ کراخراجات کرنے چاہئیں۔ انہوں‌نے اچھی معاشرتی عادات، روایات اور طور طریقوںو کواپنانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں‌نے کہا کہ مہم کے دوران انہیں حیران کردینے والے واقعات دیکھنے کو ملے۔ انہوں نے یہ مہم گذشتہ 8 ماہ سے شروع کر رکھی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ شادی بیاہ کے حوالے سے غیرضروری رسوم ورواج نہ صرف شہروں میں ہیں بلہ دیہات میں بھی لوگ ان پرعمل کرتے ہیں۔

نادین کا کہنا تھا کہ بعض گورنریوں میں لوگ شادی کے موقعے پر لڑکی کو جھیز میں تین واشنگ مشینیں، دو فریج، بستر کی 40 چادریں اور بھاری رقوم کی دیگر اشیا بھی دی جاتی ہیں۔ اگر شادی کے کل اخراجات ایک لاکھ پاؤنڈ بنتے ہیں تو ان میں سے 50 ہزار تو صرف فرنیچر اور اس طرح کی دوسری اشیا پر صرف کردیے جاتے ہیں۔

انہوں‌نے اپنی مہم کے دوران شہریوں کو ترغیب دی کہ وہ جہیز میں تین الیکٹرک ہیٹروں کے بجائے ایک پر گذرا کریں۔

نادین نے انکشاف کیا کہ مشرقی گورنری کے بعض خاندان لڑکے کی ماں کے لیے بھی زیور خریدنے کی عجیب روایت پر چلتےہیں۔

اسوان میں کچھ لوگوں نے بتایا کہ ان کے ہاں شادی کا جشن 7 دن تک جاری رہتا ہے۔ اس موقعے پر بیل ذبح کرکے لوگوں کی تواضع ضروری ہے۔

دمیاط میں لڑکی کے لیے سونے کے ہار کی قیمت ایک لالکھ مصری پاؤنڈ کم از کم ہونی چاہیے۔

بور سعید میں لوگ دیگر اشیا کی نسبت سب سے زیادہ غبارے خرید کرتے ہیں اور شادی کے موقعے پر انہیں سڑکوں پر آویزاں کیا جاتا ہے تاکہ دنیا کویہ بتایا جائے شادی کرنے والی لڑکی اور لڑکا آپس میں کتنی محبت کرتے ہیں۔