.

اسرائیلی فوج کی شہری آبادی پر بمباری، فلسطینیوں‌ کے جوابی راکٹ حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں ایک کثیر منزلہ عمارت جسے خالی کرانے کا حکم دیا گیا تھا سے متصل دوسری عمارتوں پربھی بمباری کی ہے۔ یہ عمارتیں عام شہریوں کے رہائشی فلیٹس پر مشتمل ہیں۔ دوسری طرف فلسطینی مزاحمت کاروں‌نے بھرپور طریقے سے جوابی کارروائی کرتے ہوئےاسرائیلی کالونیوں پر راکٹ حملے کیے ہیں۔

غزہ میں ایک مقامی صحافی نے العربیہ چینل کو بتایا کہ گذشتہ سوموار سے غزہ کی پٹی میں جاری اسرائیلی فوج کی بمباری میں اب تک 210 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ بمباری میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر غزہ میں الشفا کمپلیکس میں ہنگامی حالت بڑھا دی گئی ہے۔ ناکہ بندی اور مسلسل بمباری کے باعث الشفا اسپتال میں زخمیوں کے علاج کی سہولت محدود ہوگئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ میں شہری تنصیبات پر تباہ کن بموں سےحملے کررہی ہے اور فلسطینیوں کے پاس کوئی جائے پناہ نہیں۔

کل سوموار کو اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں المہند ٹاور کے مکینوں کو ایک گھنٹے کے اندر اندر اسے خالی کرنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد اسرائیل نے ڈرون طیاروں کی مدد سے میزائل داغ کر اس کثیر منزلہ رہائشی عمارت کو زمین بوس کردیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی میں فلسطینی محکمہ اوقاف کی عمارت کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا ہے جس کے بعد مغربی غزہ میں المہن ٹاور کو تباہ کیا گیا۔
فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق المہند ٹاور کے قریب حماس کے زیرانتظام وزارت داخلہ کی عمارت پر بھی بمباری کی گئی۔ اس کے علاوہ الرمال ڈسپنسری کمپلیکس کے سامنے قائم 'عمارہ الشوا' کو بھی بموں کا نشانہ بنایا گیا۔ اس عمارت میں فلسطینی وزارت صحت کا ہیڈ کواٹر ہے۔

ان عمارتوں کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیلی فوج نے چھ میزائل داغے۔

دوسری طرف حماس نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کا دعویٰ کیا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اس نے‌غزہ اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب پر رکٹ حملے کیے ہیں۔