.

ایرانی ملیشیاؤں نے شام میں اسلحہ کنکریٹ کے مضبوط گوداموں میں منتقل کرنا شروع کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی فوج سے وابستہ ملیشیاؤں نے شام کی دیر الزور گورنری میں واقع المیادین شہر میں ایک آثار قدیمہ کے قریب بڑی تعداد میں اسلحہ نئے گوداموں میں منتقل کرنا شروع کیا ہے۔ ایرانی ملیشیائیں اسلحہ کی بھاری مقدار کنکریٹ سے تیار کی گئی مضبوط خندقوں اور زمین دوز بنکروں میں منتقل کررہی ہے۔ فضائی حملوں سے بچنے کے لیے شام میں ایران کی اسلحہ کو محفوظ رکھنے کی یہ نئی حکمت عملی ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کی "ابو الفضل العباس" ملیشیا نے بڑی تعداد میں مختصر اور درمیانے فاصلے پر گولہ بارود اور میزائلوں کو اپنے نئے گوداموں میں منتقل کیا ہے۔ یہ اسلحہ اس گروپ نے عراق سے شام میں منتقل کیا تھا۔

گذشتہ ماہ کے آغاز میں ایرانی ملیشیا نے عراق کے ساتھ سرحدی شہر البوکمال کے قریب غیرقانونی "السکک" کراسنگ کے ذریعے مختصر اور درمیانے فاصلےتک مار کرنے والے میزائلوں سمیت ہتھیاروں سے لدے 4 ٹرک ہتھیار شام منتقل کیے تھے۔۔ دو ٹرکوں کو دیر الزورکے مغربی دیہی علاقوں میں عیاش کےعلاقے میں افغان 'فاطمیون' ملیشیا کے گوداموں میں خالی کیا گیا۔ جبکہ دیگر دو ٹرکوں کو الرقہ گورنری کے مشرقی دیہی علاقوں میں منتقل کیا گیا۔

گذشتہ ادوار کے دوران ملیشیا نے رہائشی اور آثار قدیمہ والے علاقوں میں اپنے ہتھیاروں کو ذخیرہ کیا ہے۔ یہ اسلحہ اور گولہ بارود عراق سے سبزیوں اور پھلوں سے لدے ٹرکوں کے ذریعے غیرقانونی گزرگاہوں کے راستےشام لایا جاتا رہا ہے۔

اسلحہ کے انبار لگانے کے ساتھ ساتھ ایرانی ملیشیائیں شام میں اپنی افرادی قوت میں اضافے کے لیےبڑی تعداد میں جنگجو بھرتی کرتی ہیں۔

شام کی انسانی حقوق آبزرویٹری کے مطابق مغربی فرات کے خطے میں ایران نواز ملیشیا کے جنگجوئوں‌کی تعداد 9،850 تک جا پہنچی ہے۔