.

غربِ اردن : اسرائیلی فوج کی مظاہرین پرفائرنگ ؛2 فلسطینی شہید ،71 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر اندھا دھند فائرنگ کردی ہے جس سے دو فلسطینی شہید اور 71 زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی مظاہرین نے غربِ اردن کے شہروں اور قصبوں میں اسرائیلی فوج کی مقبوضہ بیت المقدس میں جارحیت اور غزہ کی پٹی پر تباہ کن فضائی حملوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔غزہ پر اسرائیلی فوج کی گذشتہ آٹھ روز سے جاری فضائی بمباری میں 213 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں 61 بچے اور 36 خواتین شامل ہیں۔

غربِ اردن میں گذشتہ ایک ہفتے سے جاری اسرائیلی فوج کے مظالم میں اب تک 22 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔غربِ اردن کے مکین فلسطینی غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔

العربیہ کے نمایندے نے بتایا ہے کہ مغربی کنارے میں واقع بیت لحم اور دوسرے شہروں میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔اسرائیلی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست گولیاں چلائی ہیں۔

رام اللہ میں فلسطینی وزارت صحت نے کہا ہے کہ زیادہ تر افراد براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ان میں چھے فلسطینیوں کو گردن ، معدے اور آنکھوں میں گولیاں لگی ہیں۔

العربیہ کے نمایندے نے مزید بتایا ہے کہ رام اللہ کے نزدیک واقع علاقے اور ایک یہودی بستی بیت ایل میں سیکڑوں فلسطینیوں کی اسرائیلی فورسز سے جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں سے دوفلسطینی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے ہیں۔

غرب اردن میں فلسطینیوں کے صہیونی فورسز کے خلاف احتجاج کے پیش نظر بیشتر کاروباری مراکز ،اسٹور، بنک ،دکانیں ،اسکول اور تعلیمی ادارے بند تھے۔1948ء کے سرحدی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں نے بھی احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیا ہے۔

فلسطینی نوجوانوں کے آن لائن گروپوں نے لوگوں سے غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح کے مکینوں سے اظہار یک جہتی کے لیے منگل کے روز احتجاجی ریلیوں میں شرکت کی اپیل کی تھی۔

فلسطینی حکومت نے تمام سرکاری ملازمین کو بھی اس احتجاجی ہڑتال میں شریک ہونے کی اجازت دی تھی۔ حکومت کے ترجمان ابراہیم ملحم نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ ہم نے تمام فلسطینیوں کو ہڑتال میں شریک ہونے کا کہا ہے کیونکہ وہ فلسطینی عوام کا حصہ ہیں اور انھیں اپنے بھائیوں کی حمایت میں اپنے جذبات کا اظہار کرنا چاہیے۔‘‘