.

غزہ پر ایک بار پھر اسرائیلی حملے ، فوری جنگ بندی کے آثار مفقود

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بار پھر غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے کو شدید حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ ادھر فلسطینی گروپوں نے تل ابیب کی سمت راکٹ داغے ہیں۔ بین الاقوامی مطالبات کے باوجود عنقریب فائر بندی کے کوئی اشارے نظر نہیں آ رہے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے سینئر ذمے داران کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ حماس تنظیم کے سینئر ارکان کو نشانہ بنا کر ہلاک کرنے کی منظوری دے۔ ان ارکان میں حماس کے عسکری ونگ کے سربراہ محمد ضیف شامل ہیں۔ ایک اسرائیلی عسکری ذمے دار نے اسرائیلی اخبار ہآرٹز کو بتایا کہ کل جمعرات کے روز جنگ بندی کا سمجھوتا متوقع ہے۔

البتہ حماس نے منگل کی شام جاری ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ وہ جنگ بندی پر آمادہ نہیں ہوئی۔ تنظیم کے سیاسی دفتر کے رکن عزت الرشیق کا کہنا ہے کہ "یہ بات درست نہیں کہ حماس جمعرات کے روز فائر بندی پر آمادہ ہو چکی ہے"۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان نے واضح کیا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق غزہ پٹی میں دونوں جماعتوں (حماس اور جہاد اسلامی) کے پاس 12 ہزار کے قریب راکٹ اور مارٹر گولے ہیں "تاہم ابھی تک ان کے پاس اتنی تعداد میں راکٹ نہیں جو داغے جانے کے لیے کافی ہوں"۔ ترجمان نے بتایا کہ اب تک غزہ کی پٹی سے 3450 سے زیادہ راکٹ داغے جا چکے ہیں۔ ان میں سے بعض کو آئرن ڈوم ڈیفنس سسٹم نے گرا دیا جب کہ بعض راکٹ غزہ کی پٹی سے آگے نہیں آ سکے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق ابھی تک غزہ کی پٹی میں 160 کے قریب مسلح افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

پیر 10 مئی سے جاری اسرائیلی حملوں میں اب تک غزہ کی پٹی میں 237 سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ ان میں درجنوں بچے اور خواتین شامل ہیں۔ ادھر راکٹ حملوں میں اسرائیل میں 12 افراد مارے جا چکے ہیں۔

انسانی امور کے نظم و نسق سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق اسرائیلی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک غزہ کی پٹی میں تقریبا 450 عمارتیں مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ ان میں چھ ہسپتال اور ابتدائی طبی دیکھ بھال کے نو مراکز شامل ہیں۔ اس دوران میں 52 ہزار افراد بے گھر ہوئے جن میں 48 ہزار نے اقوام متحدہ کے زیر انتظام 58 اسکولوں میں پناہ لی۔