.

امریکا کی بلیک لسٹ میں شامل ایران کے چھ صدارتی امیدوار کون ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں رواں سال جون میں ہونےوالے صدارتی انتخابات میں اب تک 592 امیدوار سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے چھ ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو امریکا کی بلیک لسٹ کا حصہ ہیں۔
ان امیدواروں میں ایک ایسا نام بھی شامل ہے جو امریکا ہی نہیں بلکہ یورپی یونین کی بھی بلیک لسٹ میں شامل ہیں۔ یہ ابراہیم الرئیسی ہیں جو اس وقت ایرانی عدلیہ کےسربراہ اور متوقع طور پر موجودہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے جانیشن بھی ہوسکتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان چھ امیدواروں میں سے کوئی ایک صدارتی میدان میں کامیابی حاصل کرلیتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات مزید کئی سال تک خراب رہیں گے۔ امریکا اور یورپ کے ساتھ ایران کی کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ عالمی سزا یافتہ شخص کے ایران میں منصب صدارت پرفائز ہونے سے مستقبل میں ایران کی مذاکراتی طاقت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ایسے میں ایران جوہری مذاکرات کے دوران نو منخب صدرتہران پر عاید کی گئی عالمی پابندیوں کو ختم کرنے کے لیے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔

عالمی سزا یافتہ ایرانی صدارتی امیدوار

ایران میں جون میں ہونے والے صدارتی دنگل میں عالمی سزا یافتہ امیدواروں میں ابراہیم رئیسی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ابراہیم رئیسی سنہ 1988ء کو ایران میں ولایت فقیہ کے نظام کے مخالفین کو سزائے موت دینے کے لیے تشکیل دی گئی چار رکنی کمیٹی کے رکن تھے۔ اس کمیٹی کو'چار رکنی ڈیتھ کمیٹی' قرار دیا جاتا ہے جس نے 5 ہزار افراد کے قتل کے پروانے جاری کیے تھے۔

ابراہیم رئیسی
ابراہیم رئیسی


سنہ 2011ء کو امریکا اور یورپی یونین نے ابراہیم رئیسی پر پابندیاں‌عاید کیں۔ یورپی یونین نے ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث جن 80 افراد کی فہرست جاری کی ان س میں ابراہیم رئیسی سر فہرست ہیں۔

چار اکتوبر 2019ء کو امریکا نےایران کی بلیک لسٹ شخصیات کی فہرست میں ابراہیم رئیسی اور 9 دیگر افراد کوشامل کیا۔ ان پر ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کو طاقت کے ذریعے کچلنے میں‌ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔

جب مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا تو اس وقت ابراہیم رئیسی ایرانی جوڈیشل کونسل کے سربراہ تھے۔

رسم قاسمی
رسم قاسمی

رسم قاسمی

ایران کے عسکری شعبے سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدواروں میں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے والے رسم قاسمی اہم نام ہے۔ امریکا نے سنہ 2013ء کو رستم قاسمی کو بلیک لسٹ کیا۔ وہ سابق صدر محمود احمدی نژاد کی حکومت میں پٹرولیم کے وزیر تھے۔
رستم قاسمی نہ صرف امریکا کی طرف سے بلیک لسٹ ہیں بلکہ یورپی یونین، سلامتی کونسل اور آسٹریلیا نے نے ان پرپابندیاں عاید کر رکھی ہیں۔

حسین دھقان
حسین دھقان

حسین دھقان

حسین دھقان سابق فوجی افسر ہیں مگر وہ پہلے بھی ایران میں صدارت کے منصب کے حصول کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ میجر جنرل ریٹائرڈ حسین دھقان ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے ملٹری انڈسٹری کے شعبے کے مشیر ہیں۔ چار نومبر 2019ء‌کو امریکی وزارت خزانہ نے 9 ایرانی عہدیداروں پر پابندیاں عاید کیں۔ ان میں ایک نام حسین دھقان کا بھی شامل ہے۔
اس وقت کی امریکی حکومت نے کہا تھا کہ یہ شخصیات لبنان اور ارجنٹائن میں امریکی مفادات پر ہونے والے حملوں میں بھی ملوث ہیں۔

ابو الحسن فروز آبادی
ابو الحسن فروز آبادی

ابو الحسین فیروز آبادی

ایران کے صدارتی انتخابات کے بلیک لسٹ امیدواروں میں ایران کی سائبر اسپیس کونسل کے سیکرٹری ابو الحسن فیروز آبادی بھی شامل ہیں۔
تیس مئی 2018ء کو امریکی وزارت خزانہ نے انٹرنیٹ مانیٹرنگ کی آڑ میں ایران میں پابندیاں عاید کرنے میں‌ ملوث فیروز آبادی کو بلیک لسٹ کردیا تھا۔ امریکا میں موجود فیروزآبادی کے اثاثے منجمد کردیئے گئے۔

خیال رہے کہ ایران کی سائبر اسپیس کونسل ملک میں انٹرنیٹ اور سائبر سے متعلق فیصلوں کی مجاز ہے۔

فریدون عباسی
فریدون عباسی

فریدون عباسی

سنہ 2012ء کو امریکا نے ایران کی متعدد شخصیات پرپابندیوں کا اعلان کیا۔ ان میں پانچ شخصیات اور جوہری پروگرام سے متعلق کام کرنے والی 7 کمپنیاں شامل تھیں۔ بلیک لسٹ ہونے والے افراد میں ایک نام فریدون عباسی کا شامل تھا۔

عزت اللہ ضرغامی
عزت اللہ ضرغامی

عزت اللہ ضرغامی

ایران میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں شامل بلیک لسٹ امیدواروں میں عزت اللہ ضرغامی بھی شامل ہیں۔ ضرغامی ایران کے ریڈیو اینڈ ٹیلی ویژن کارپوریشن کے سابق ڈائریکٹر ہیں۔ سنہ 2012ء میں امریکا نے ان پر پابندیاں عاید کی تھیں۔
اس کے علاوہ یورپی یونین کی ایرانی شخصیات کو بلیک لسٹ کرنےسےمتعلق ایک فہرست میں 16 نام شام ہیں جن میں عزت اللہ ضرغامی بھی شامل ہیں۔