.

سعودی عرب مقبوضہ فلسطین میں اسرائیل کے اقدامات کو مسترد کرتا ہے: وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کو مسترد کرتا ہے کیونکہ ان اقدامات سے فلسطینی علاقوں میں تشدد کو مہمیز ملی ہے۔

وہ جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں تقریر کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم مشرقی القدس سے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے اسرائیلی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔فلسطینی تنازع کا عرب امن اقدام کی بنیاد پر حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ہم غزہ میں فوری جنگ بندی اور امدادی سامان پہنچانے کے لیے کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘‘

نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اس ہنگامی اجلاس میں اسرائیل کے غزہ پر فضائی حملوں کے تناظر میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی تازہ صورت حال پر غور کیا جارہا ہے۔اجلاس میں پاکستان اور ترکی سمیت مختلف اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ بھی شریک ہیں۔

سعودی وزیرخارجہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’فلسطینی نصب العین کو ہماری پالیسی میں مرکزی حیثیت حاصل ہے تاکہ وہ اپنی سرزمین کو واپس لے سکیں۔‘‘

انھوں نے ایک روز قبل العربیہ سے انٹرویو میں واضح کیا تھا کہ مشرقی القدس میں اشتعال انگیزی اورغزہ میں کشیدگی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔انھوں نے سعودی عرب کے اس دیرینہ مؤقف کا اعادہ کیا تھا کہ فلسطینی ،اسرائیلی تنازع کے جامع حل کے بغیرمشرق اوسط میں استحکام نہیں ہوسکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ’’سعودی عرب مشرقی القدس (یروشلیم) سے فلسطینی شہریوں کی ان کے آبائی مکانوں سے جبری بے دخلی کی بھی مذمت کرتا ہے۔مشرقی یروشلیم فلسطینیوں کی سرزمین ہے،ہم یہ قبول نہیں کرسکتے کہ اس شہر کو کوئی نقصان پہنچائے۔‘‘

شہزادہ فیصل نے عرب امن اقدام کی حمایت کا اعادہ کیا۔واضح رہے کہ سعودی عرب کی جانب سے 2002ء میں پیش کردہ اس امن اقدام میں مشرقی یروشلیم دارالحکومت کے ساتھ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دی گئی ہے۔عرب لیگ نے بیروت میں منعقد اپنے سربراہ اجلاس میں اس کی توثیق کی تھی۔