.

یو این سیکریٹری جنرل غزہ پراسرائیل کی’’ناقابل قبول‘‘ بمباری سے صدمے سے دوچار

اسرائیل اور غزہ کے درمیان لڑائی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے: جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں تقریر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے کہا ہے کہ اسرائیلی فوج اور حماس سمیت فلسطینی جنگجو گروپوں کے درمیان جاری ’’کراس فائر‘‘ بالکل ناقابل قبول ہے اور لڑائی کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔

انھوں نے جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ’’مجھے اسرائیلی دفاعی افواج کی غزہ میں فضائی اور توپ خانے سے مسلسل بمباری سے گہرا صدمہ پہنچا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’اگر دنیا میں کوئی جہنم زار ہے تو اس وقت یہ غزہ میں بچوں کی زندگیاں ہیں۔‘‘غزہ میں اسرائیلی حملوں میں کم سے کم 230 فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ ان میں 65 کم سن بچے ہیں۔

غزہ پر اسرائیل کے فضائی حملوں سے پیدا ہونے والے صورت حال پر غور کے لیے نیجر اورالجزائر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تھی۔یہ دونوں ملک اقوام متحدہ میں بالترتیب اسلامی تعاون تنظیم اور عرب گروپ کے سربراہ ہیں۔

انتونیو گوٹیریس نے کہا کہ سرحدپار سلامتی اور انسانی بحران کو ہاتھوں سے نکلنے سے روکنےکے لیے کشیدگی کاخاتمہ ناگزیر ہے۔انھوں نے 1967ء کی سرحدوں کے مطابق تنازع کے دوریاستی حل کے لیے مذاکرات کی بحالی پر زوردیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے غزہ میں اسرائیل کے فضائی حملوں میں متعدد اسپتالوں کی تباہی کی بھی مذمت کی ہے۔انھوں نے غزہ میں میڈیا کے دفاتر کی میزائل حملوں میں تباہی اور ایک صحافی کی ہلاکت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ مجھے غزہ میں اقوام متحدہ کی تنصیبات کی تباہ کاریوں پرگہرا دکھ پہنچا ہے۔اقوام متحدہ کی جگہوں کو مسلح تنازعات کے وقت بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے،انسانی امدادی تنصیبات کا احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے انسانی امداد اور عطیات جمع کرنے سے متعلق بہت جلد اپیل کی جائے گی۔انھوں نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے لیے انسانی فنڈ میں ایک کروڑ40 لاکھ کی رقم بہت جلد جاری کردی جائے گی۔

انتونیو گوٹیریس نے واضح کیا کہ ’’انسداد دہشت گردی اور ذاتی دفاع کے نام پر تنازع کے فریقوں کی جانب سے تشدد آمیز کارروائیوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔انھیں بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمے داریاں پوری کرنی چاہییں۔‘‘

انھوں نے مقبوضہ بیت المقدس سمیت مغربی کنارے میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد آمیز جھڑپوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس علاقے میں بہت سے فلسطینی خاندانوں کو بے دخلی کا سامنا ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیل کی ایک عدالت نے اسی ماہ یہودی آبادکاروں کو مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے شیخ جراح میں فلسطینیوں کے آبائی مکانوں کی جگہوں پر قبضے کی اجازت دے دی ہے۔فلسطینی اس فیصلے کے خلاف سراپااحتجاج بنے ہوئے ہیں اور اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں بھی تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔تشدد کے ان واقعات سے غزہ کی پٹی پر اسرائیل کے تباہ کن حملوں کی راہ ہموار ہوئی تھی اور اس نے 10 مئی کو محاصرہ زدہ فلسطینی علاقوں پر تباہ کن بمباری شروع کردی تھی۔