.
ایران جوہری معاہدہ

جوہری معاہدے سے ایران 100 ارب ڈالرحاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اٹلانٹک کونسل نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کے جوہری معاہدے میں امریکی واپسی مشرق وسطی میں عدم استحکام کو بڑھانے میں معاون ثابت ہوگی۔تناؤ کی سطح کو نئی سطحوں تک پہنچائے گی اور ایٹمی معاملےپر توجہ دینے سے خطے میں جنگ نہیں رکے گی بلکہ اس کو مزید مالی مدد ملے گی۔ اگر بائیڈن معاہدے پر واپس آئے تو ایرانی حکومت کو 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقم مل جائے گی۔

ایک رپورٹ میں اٹلانٹک کونسل نے کہا کہ ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی آڈیو ٹیپ کے لیک ہونے سے حالیہ ہفتوں میں ایک سنسنی پھیل گئی تھی۔ اس ٹیپ میں ظریف نے بشار الاسد کی حکومت کے لیے تہران حکومت کی مسلسل حمایت کا حوالہ بھی شامل ہے۔ اس میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ ایران کی قومی ایئرلائن کمپنی ایران سے اسلحہ اور جنگجو شام منتقل کرنے میں ملوث ہے۔

چونکہ بائیڈن انتظامیہ ویانا میں مشترکہ جامع پلان آف ایکشن (جے سی پی او اے) میں ممکنہ واپسی کے لیے بات چیت کرتی ہے لہذا تہران کی اسد حکومت کے لیے حمایت کو میز پر نہیں چھوڑنا چاہیئے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2015 کے ایرانی جوہری معاہدے میں صدر بائیڈن کی غیر مشروط واپسی کے حامیوں نے اکثر یہ استدلال کیا ہے کہ ایسا کرنا مشرق وسطی میں تنازعات اور جنگ کو روکنے کے لیے ضروری ہے۔ تجزیہ کار جنہوں نے طویل عرصے سے ایران کے خطرات پر انتباہ کرتے آ رہے ہیں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں۔ انہوں‌نے بائیڈن پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کو روکنے کے لئیے فوری طور پر' جے سی پی او اے' میں واپس آئیں۔ تاہم شام میں معاہدے پر واپس آنا جنگ کو نہیں روک سکے گا بلکہ یہ اس جنگ کو بڑھاوا دے کر اور پھیلائے گا۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے مئی 2018 میں امریکا کے مشترکہ جامع منصوبے سے دستبرداری کے بعد اسلامی جمہوریہ پر عائد پابندیاں دوبارہ نافذ ہوگئیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق ایران کے غیر ملکی ذخائر چار ارب ڈالر تک کم ہوا جس کے نتیجے میں ایران کو خطے میں اپنے پراکسی ایجنٹوں کو امداد محدود کرنا پڑی۔

لیکن بین الاقوامی اندازوں سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ اگر بائیڈن انتظامیہ نے پابندیوں کو آسان بنایا تو تہران کے زرمبادلہ کے ذخائر 100 بلین ڈالر سے زیادہ ہوجائیں گے جسے خطے میں ایران نواز مسلح گروپوں کو نئی طاقت مل سکتی ہے۔