.
غزہ وحماس

اسرائیلی فلسطینی تنازع کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے : امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی اب بھی اسرائیل کی تائید کرتی ہے ،،، اور وہ اسرائیل اور حماس کے درمیان فائر بندی قائم رہنے کے لیے دعا گو ہیں۔

بائیڈن کا یہ موقف جمعے کے روز وائٹ ہاؤس میں اپنے جنوبی کوریائی ہم منصب مون جے اِن کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں سامنے آیا۔ اس موقع پر بائیڈن نے کہا کہ دو ریاستوں کا قیام ہی اسرائیلی فلسطینی تنازع کا "واحد حل" ہے۔

امریکی صدر نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کریں۔

بائیڈن کے مطابق انہوں نے اسرئیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں عرب اور یہودیوں کے درمیان تصادموں کو روکیں۔ انہوں نے فریقین کی جانب موجود شدت پسندوں کی مذمت کی۔

امریکی صدر نے شمالی کوریا کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی کوریا کے صدر کے ساتھ بات چیت کے بعد میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ پیونگ یانگ کو جوہری ہتھیاروں سے دست برداری کے واسطے قائل کرنا نہایت دشوار ہو گا۔ جوبائیڈن نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے جنوبی کوریا میں امریکا کے سابق سیفر سونگ کِم کو شمالی کوریا کے لیے اپنا خصوصی نمائندہ مقرر کیا ہے۔

واضح رہے کہ غزہ کی پٹی اور اسرائیل کے درمیان جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب 2 بجے سے فائر بندی کے آغاز کے باوجود جمعے کی نماز کے بعد مسجد اقصی کے احاطے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے بیچ جھڑپیں ہوئیں۔ اسرائیلی فورسز کی جانب سے ربڑ کی گولیاں فائر کی گئیں اور آواز والے بم چلائے گئے۔ اس کے نتیجے میں 38 فلسطینی زخمی ہو گئے۔