.
غزہ وحماس

اسرائیل کی بمباری سےغزہ کا آب رسانی کا نظام 50 فی صد تباہ،8 لاکھ فلسطینی متاثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے نتیجے میں کم سے کم آٹھ لاکھ مکین پینے کے صاف پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔اقوام متحدہ کے تخمینے کے مطابق میں غزہ پر اسرائیلی فوج کی تباہ کن بمباری کے نتیجے میں فلسطینی علاقے کا آب رسانی کا 50 فی صد نظام ناکارہ ہوگیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے ہفتے کے روز غزہ کی تعمیراتِ عامہ اور مکانات کی وزارت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کے11 روز تک تباہ کن فضائی حملوں میں 17 ہزار مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں یا انھیں جزوی نقصان پہنچا ہے۔

اس نے مزید بتایا ہے کہ ان میں سے 769 مکانات اور تجارتی یونٹ مکمل طور پر تباہ ہوگئے ہیں اور وہ بالکل استعمال کے قابل نہیں رہے ہیں۔258 عمارتوں میں 1042 یونٹس تباہ ہوئے ہیں اور 14538 مکانوں یا تجارتی عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

امریکا کی کوششوں اور مصر کی ثالثی کے نتیجے میںاسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی تھی۔اسرائیلی فوج کی فضائی بمباری میں کم سے کم ڈھائی سو فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ان میں 66 کم سن بچے شامل ہیں۔اس جنگ کے نتیجے میں پہلے سے تباہ حال اور محصورغزہ کے مکینوں کی مشکلات دوچند ہوگئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر کا کہنا ہے کہ 10 مئی کے بعد غزہ پر اسرائیل کے حملوں میں 53 تعلیمی ادارے ،چھے اسپتال اور 11 بنیادی مراکزِ صحت مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوگئے ہیں۔ان میں سے ایک مرکز صحت کو شدید نقصان پہنچا ہے جبکہ ایک اسپتال برقی رو منقطع ہونے سے چالو حالت میں نہیں رہا ہے۔اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے اس اسپتال کا برقی نظام ناکارہ ہوگیا ہے۔

غزہ میں اسکول بند ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے 6 لاکھ فلسطینی طلبہ کی پڑھائی کا حرج ہوریا ہے۔واضح رہے کہ غزہ میں پہلے ہی کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے گذشتہ سال کے دوران میں زیادہ ترعرصہ اسکول بند رہے ہیں۔