.

جرمن لفتھانسا،آسٹریااورسوئس ائیرکااتوارسے تل ابیب کے لیے پروازوں کی بحالی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی فضائی کمپنی لفتھانسا،آسٹریا کی قومی فضائی کمپنی اور سوئس ائیرلائنز نے اتوار سے اسرائیل کے شہر تل ابیب کے لیے اپنی پروازیں بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔

لفتھانسا نے 13 مئی کو اسرائیل کی غزہ کے خلاف جارحیت اور فلسطینی تنظیموں کے تل ابین کی جانب راکٹ حملوں کے بعد اپنی تمام پروازیں معطل کردی تھیں۔

مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جمعہ کو جنگ بندی ہوئی ہے۔اسرائیل نے 10 مئی کو غزہ پر فضائی حملے شروع کیے تھے اور 21 مئی تک تباہ کن بمباری جاری رکھی ہے۔

اس دوران میں اسرائیل کی قومی فضائی کمپنی ایل آل نے اپنی پروازیں جاری رکھی تھیں جبکہ برٹش ائیرویز سمیت بہت سی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے تل ابیب کے نزدیک واقع بن گورین کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے اپنی پروازیں معطل کردی تھیں۔البتہ بعض فضائی کمپنیوں نے اپنی پروازوں کا رُخ ایلات کے نزدیک واقع رامون ائیرپورٹ کی جانب موڑ دیا تھا۔یہ تل ابیب سے کئی گھنٹے کی مسافت پر واقع ہے۔

واضح رہے کہ سیاحت اسرائیل اور اس کے زیرقبضہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں کی آمدن کا بڑا ذریعہ ہے۔دنیا بھر سے عام سیاحوں کے علاوہ مذہبی زائرین کی ایک بڑی تعداد بھی مقدس شہروں مقبوضہ بیت المقدس ، بیت لحم اور الخلیل کا رُخ کرتی ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آنے والے غیرملکی سیاحوں سے سیروسیاحت کی مد میں ملنے والی رقوم پر فلسطینی اتھارٹی کاحق ہے لیکن غرب اردن کے داخلی راستوں کا کنٹرول اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے پاس ہے۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان اس سے پہلے 2014ء میں جنگ لڑی گئی تھی اور یہ سات ہفتے تک جاری رہی تھی۔اسرائیل کے مرکزی بنک کے تخمینے کے مطابق اس جنگ میں ملکی معیشت کو ساڑھے تین ارب شیکل کا نقصان پہنچا تھا اور اتنی ہی مالیت کا سیاحت کی مد میں نقصان ہوا تھا۔