.
غزہ وحماس

غزہ میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی وزارت صحت نے 10 مئی سے 21 مئی کی درمیانی شب تک غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی بمباری میں ہونے والے جانی نقصان کی تفصیلات جاری کیں ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں غزہ میں 65 بچوں اور 39 خواتین سمیت 232 فلسیطنی شہید اور 1910 زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 560 بچے اور 380 خواتین شامل ہیں جب کہ 91 معمر فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

اس کے مقابلے میں غزہ میں حماس کے راکٹ حملوں میں 12 صہیونی ہلاک اور 335 زخمی ہوئے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی مسلط کردہ جنگ کے نتیجے میں ہونے والا مادی نقصان کروڑوں ڈالر میں ہے۔ اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی'اونروا' کے مطابق اسرائیلی بمباری سے غزہ میں کروڑوں ڈالر کا نقصان ہو ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 75ہزار فلسطینی بے گھر ہونے کےبعد متبادل مقامات پر منتقل ہوئے۔ ان میں سے 28 ہزار 700 فلسطینی 'اونروا' کے اسکولوں میں عارضی طور پر قیام پذیر ہیں۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری میں صنعتی سیکٹر کو 40 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے جب کہ توانائی کے شعبے کو پہنچنے والا نقصان 22 ملین ڈالر، زراعت کو 27 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی انڈسٹریل یونین کے مطابق فلسطینیوں کے راکٹ حملوں میں 11 سے 13 مئی کے دوران 166 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔
اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی'اونروا' کو غزہ کی پٹی میں جنگ سے متاثرہ شہریوں کی فوری بحالی کے لیے 38 ملین ڈالر کی امداد کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان 10 مئی سے 21 مئی تک جاری رہنے والی لڑائی میں دونوں متحارب فریقوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے تاہم فلسطینیوں کا جانی نقصان بہت زیادہ ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ وہ جنگ کے اہداف کےحصول میں کامیاب رہے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاھو نے کہا ہے کہ حماس اور اسلامی جہاد کو 11 روزہ لڑائی میں بھاری نقصان پہنچایا گیا ہے۔

نیتن یاھو کے ترجمان عوفیر جنڈلمین نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اسرائیل نے حماس پر کاری ضرب لگائی ہے۔ ہم نے حماس کی اہم قائدین کو ہلاک کیا اور ایک سو کلومیٹر پر موجود سرنگوں کو تباہ کیا ہے۔

غزہ کی پٹی سے فلسطینی مزاحمت کاروں نے اسرائیل پر 4070 راکٹ برسائے جن میں سے 610 غزہ ہی میں تباہ ہو گئے۔ اسرائیل کے فضائی دفاعی نظام آئرن ڈوم نے 90 فی صد راکٹوں کو ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا۔

اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں کے داغے راکٹوں سے مقامی صنعت کو غیر معمولی نقصان پہنچا ہے۔
اخباری رپورٹ کےمطابق حماس کے ایک راکٹ کو گرانے کے لیے 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر تک خرچہ کرنا پڑتا ہے۔