.

غزہ میں زخمی صحت کے مراکز کی گنجائش سے زیادہ ہیں، دنیا مدد کرے: ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ادارہ صحت نے اقوام متحدہ کی ایجنسیوں نے فوری طور پر طبی رسد کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والا جانی نقصان اور زخمیوں کی تعداد صحت کے مراکز کی گنجائش سے زیادہ ہے۔

غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کی 11 دن تک جاری رہنے والی فوجی کارروائیوں میں ہزاروں فلسطینی ہوئے ہیں جس سے طبی تنصیبات پر زیادہ بوجھ پڑنے کا خطرہ ہے۔

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے مابین حالیہ برسوں کی زبردست لڑائی کے بعد جمعہ کے روز ایک سیز فائر معاہدہ عمل میں آیا ہے لیکن امدادی عہدیداروں نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کو اس لڑائی کے نتائج سے نمٹنے میں کئی سال لگیں گے۔ 2008 کے بعد سے یہ غزہ سیکٹر میں تشدد کی چوتھی لہر تھی۔

عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے اقوام متحدہ کی طرف سے انٹرنیٹ بریفنگ کے دوران بتایا کہ غزہ کی پٹی میں اس وقت قریب 8،538 زخمی ہیں۔ اس کے علاوہ 257 فلسطینی شہید ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سے صحت کی سہولیات کی صلاحیت سے زیادہ دباؤ ڈالنےکا خطرہ ہے۔

انہوں نے غزہ کی پٹی میں طبی امداد اور امدادی کارکنوں کی فوری رسائی کی سہولت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ضروری ادویات کا تقریبا نصف اسٹاک ختم ہوچکا ہے۔ انہوں نے سرحدی گزر گاہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اصل چیلنجز بندشیں ہیں۔ ہمیں طبی سامان کی ضرورت ہے۔

ہیرس نے بتایا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیل کی طرف سے کی جانے والی پرتشدد بمباری کے دوران 30 طبی مراکز کو نقصان پہنچا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ سڑکوں کو ہونے والا نقصان ایمبولینسوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ہے۔ تمام اسپتال مکمل صلاحیت سے کام نہیں کررہے ہیں اور ان میں سے دو بالکل بھی کام نہیں کر رہے ہیں۔

اسرائیل نے دعوی کیا ہے کہ اس کے فضائی حملوں نے جائز فوجی اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔ اس نے شہری ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اسرائیل میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کی تعداد کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں۔