.

اسماعیل ھنیہ کی مکتوب کے ذریعے خامنہ ای کو غزہ جنگ بارے بریفنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی تنظیم اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہیں 10 سے 21 مئی تک غزہ کی پٹی میں اسرائیل کے ساتھ جاری رہنے والی لڑائی کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا ہے۔

دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر نے ھنیہ کے مکتوب کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ غزہ جنگ میں ہونے والی کارروائیوں کے بارے میں مجھے آپ کا مفصل مکتوب مل چکا ہے۔
ایرانی لیڈرنے اسلامی جہاد کے سیکرٹری جنرل زیاد النخالہ کےمکتوب کا بھی جواب ارسال کیا ہے۔

ہفتے کے روز حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ نے ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر حسین سلامی کے ساتھ غزہ جنگ کے بارے میں گفتگو کی تھی۔ ھنیہ نے غزہ جنگ کو فلسطینیوں کی 'حقیقی فتح' قرار دیا۔

اسماعیل ھنیہ نے حماس کی مدد جاری رکھنے پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ قطر کے دارالحکومت دوحا سے بات کرتے ہوئے ھنیہ نے کہا کہ 'حالیہ لڑئی میں اسرائیل کو شرمناک ہزیمت اور فلسطینیوں کو شاندار فتح نصیب ہوئی ہے'۔

اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے مقابلے کے لیے پوری فلسطینی قوم متحد ہے۔ ہمیں عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم عرب مخیر افراد کے تعاون سے غزہ کی دوبارہ تعمیر نوکریں گے۔

خیال رہے کہ 10 مئی سے 21مئی کے شب تک اسرائیلی فوج اور فلسطینی مزاحمت کاروں کے درمیان غزہ کے محاذ پر ہونے والی لڑائی میں 240 فلسطینی شہید اور دو ہزار کےقریب زخمی ہوگئے تھے۔ سنہ2014ء کے بعد اسرائیل کی غزہ پر یہ شدید ترین بمباری تھی جس میں 2ہزار رہائشی مکانات تباہ اور تقریبا 15 ہزار عمارتوں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔