.

بین الاقوامی اور انسانی قانون کے کم عمر سعودی مشیر سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سےتعلق رکھنے والے ایک نوجوان کے انسانی ہمدردی اور جذبہ خیر سگالی کےجذبات اور دکھی انسانیت کی غم خواری اسے عالمی شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا ہے۔

ابراہیم الدوسری سعودی عرب کے سرکاری فلاحی ادارے 'شاہ سلمان ریلیف اینڈ ہیومینیٹرین' کی چھتری تلےکام کرنے کے ساتھ مختلف ممالک میں لوگوں کو بین الاقوامی قوانین اورانسانی حقوق سے متعلق قوانین کی بھی رہ نمائی فراہم کررہا ہے۔ وہ جہاں جاتا ہے لوگوں کو مریضوں، زخمیوں، غریبوں، پناہ گزینوں، جنگ سے متاثرین اور دیگر مفلوک الحال لوگوں کے بارے میں انہیں بین الاقوامی انسانی حقوق، غیر جانب داری اور مساوات کے اصولوں کے بارے میں آگہی مہیا کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات کی شارجہ یونیورسٹی سے قانون کے شعبے میں فارغ التحصیل ہونے والے ابراہیم الدوسری نے انسانیت کی خدمت کے شعبے میں بھی ڈپلوما کیا ہے۔اس نے عرب ہلال احمر اور ریڈ کراس کے ذریعے بھی اپنی خدمات پیش کیں۔ابراہیم الدوسری ریڈ کراس کے ساتھ سب سے کم عمر بین الاقوامی اور انسانی قوانین کے مشیر کے طورپر کام کرتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے الدوسری نے بتایا کہ عرب ریڈ کراس کمیٹی لڑائیوں، جنگوں اور فسادات سے متاثرہ 24 ممالک میں کام کرتی ہے۔ کمیٹی کا مقصد جنگوں سے متاثرہ افراد کو رضاکارانہ تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ لوگوں کو ابلاغی رہ نمائی فراہم کرتی ہے۔ ریڈ کراس کمیٹی کے ساتھ کام کے دوران الدوسری نے شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے رضاکارانہ انتظامی پروگرام میں بھی کام شروع کیا۔

الدوسری نے بتایا کہ وہ اب تک 3 براعظموں ایشیا، افریقا اور یورپ کے 20 ممالک میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق قوانین کی رہ نمائی کی ذمہ داریاں انجام دے چکا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الدوسری نے بتایا کہ اس نے ترکی کی سرحد پر موجود شامی پناہ گزینوں کی مدد کی۔ اسکے علاوہ وہ ممنوعہ اسلحے کے استعمال، طبی عملے کے فیلڈ میں کام، جنگ کے میدان میں ریلیف، صحافت اور رضاکارانہ خدمات انجام دینے والوں کی رہ نمائی کرچکا ہے۔

الدوسری نے مزید کہا کہ بیرون اور اندرون ملک رضاکارانہ خدمات سے مختلف ہیں۔ یہ کام کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ ضرورت کے پیش نظر جنگوں ، آفات اور غربت کے بحرانوں سے نمٹنے کے طریقہ کار کے بارے میں متعدد مہارت اور جانکاری ان کی مہمات کا حصہ ہے۔ اندرون ملک زیادہ تر کام صرف ضرورت مندوں تک خوراک کی تقسیم ہوتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بیرون ملک رضاکارانہ طور پر کام کرنے والے انسانیت کے کام کے اصولوں اور بین الاقوامی اصولوں کے بارے میں جانکاری ،قدرتی آفات سے متاثرہ، بے گھر افراد اور مہاجرین کو درپیش بحرانوں سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی انسانی قانون کی دفعات کا علم ضروری ہے۔