.

سعودی عرب : 5 لاکھ مکھیوں پر مشتمل شہد کا سیاحتی منصوبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی صوبے عسیر میں نوجوان انجینئر محمد الالمعی نے پن چکی کے ذریعے شہد کشید کرنے کا کولہو تیار کر لیا۔ رجال المع نامی ضلع میں واقع یہ کولہو پن چکی کے ذریعے شہد نکالنے کا دنیا کا پہلا آلہ ہے۔

اس کولہو نے سیاحتی مقام کی صورت اختیار کر لی ہے۔ یہ شہد کے دیہی Honey Hut کے مقابل موجود ہے۔ اس کے ایک جانب مملکت کے جنوب میں شہد سے تیار کردہ مصنوعات کی نمائش کا سب سے بڑا ہال بھی واقع ہے۔ یہاں شہد سے تیار کی جانے والی چھ مصنوعات رکھی جاتی ہیں۔ یہ مصنوعات شہد، رائل جیلی، جھنے کا موم، زر گل، شہد کی مکھی کا زہریلا لعاب اور شہد کا موم ہے۔ اس طرح اس مقام کا دورہ شہد کی دنیا کی بھرپور سیر بن جاتا ہے۔ اس مقام کے ساتھ ہی شہد کی تقریبا 5 لاکھ مکھیاں موجود ہیں۔ یہاں آنے والے لوگ پہلے شہد کا چھتہ لیتے ہیں اور پھر اوبر جا کر شہد کشید کرواتے ہیں۔ آنے والوں کو مکمل طور پر اطمینان ہوتا ہے کہ انہیں خالص شہد حاصل ہو رہا ہے۔ محمد الالمعی کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ کے ذریعے اس جگہ کا دورہ کرنے کے خواہش مند افراد کے 70 ہزار سوالات کے جواب دے چکے ہیں۔

الالمعی کا کہنا ہے کہ "میں 50 کے قریب امور پر کام کر رہا ہوں جن میں تفریح، سیاحت اور سرمایہ کاری سے متعلق معاملات شامل ہیں۔ ان سرگرمیوں کے ذریعے مقامی آبادی کم سے کم بوجھ کے ساتھ زیادہ بڑا منافع کمانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط سے گفتگو کرتے ہوئے محمد الالمعی نے بتایا کہ اس مشترکہ منصوبے میں 27 نحل پرور (شہد کی مکھیاں پالنے والے) شامل ہیں۔ یہ لوگ ایک گھنٹے کے اندر 600 کلو گرام شہد کشید کر لیتے ہیں ،،، اور اس دورانیے میں 30 سیاحوں کا استقبال بھی ہو جاتا ہے۔

الالمعی کے مطابق اس منصوبے کے آغاز کو صرف 7 ماہ گزرے ہیں تاہم اب تک 4 ہزار کے قریب افراد یہاں کا دورہ کر چکے ہیں۔

الالمعی نے بتایا کہ مستقبل میں جازان اور عسیر کے صوبوں کے بیچ علاقے میں بیس لاکھ کے قریب درخت لگانے کا منصوبہ ہے۔ اس پر ایک سال کے اندر عوام کی معاونت سے عمل ہو گا۔

الالمعی نے بتایا کہ اس مقام کا دورہ کرنے والا یہاں ایک پینورامک بستر پر آرام کر سکتا ہے۔ اس کے اطراف 5 لاکھ کے قریب شہد کی مکھیاں ہوں گی۔ وہ ایک خاص پائپ کے ذریعے ہوا اپنے جسم میں داخل کرے گا۔

اس مقام پر مختلف طبقات کے لیے مختلف نوعیت کے Honey Huts موجود ہیں۔

الالمعی کے مطابق یہاں کا دورہ کرنے والوں کو یادگاری اشیاء بھی دی جاتی ہیں۔ یہ اشیاء سیکڑوں برس پرانے درختوں کی لکڑی سے تیار کی گئی ہوتی ہیں۔ اس طرح آنے والا کا دورہ ہمیشہ کے لیے اس کی یادداشت میں محفوظ ہو جاتا ہے۔

(بشکریہ روزنامہ "الشرق الاوسط)