.

لبنان حزب اللہ کی موجودہ حیثیت کے ساتھ کبھی خودمختار نہیں بنے گا:ڈیوڈہیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ ملیشیا کو جب تک ہتھیاروں کے حصول سے باز نہیں رکھا جاتا اور یہ گروپ اپنی تخریبی کردار کو تبدیل نہیں کردیتا،اس وقت تک لبنان کبھی دوبارہ حقیقی خودمختاری حاصل کرسکے گا اور نہ مضبوط ہوسکے گا۔

یہ بات امریکا کے سابق معاون وزیرخارجہ اور بیروت میں سابق سفیر ڈیوڈ ہیل نے واشنگٹن میں قائم مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے زیراہتمام ایک ویبی نار میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’جب تک یہ تنظیم (حزب اللہ) خطرناک ہتھیاروں کو جمع کرنے کا سلسلہ جاری رکھتی ہے، اسمگلنگ اور دوسرے غیر قانونی دھندوں میں ملوّث رہتی ہے تو لبنان حقیقی خودمختار ملک نہیں بن سکے گا۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ’’کوئی بھی ریاست اس وقت تک زندہ نہیں رہ سکتی جب تک ایک دھڑا ایک غیرملکی دارالحکومت کو جوابدہ رہتا ہے اور وہی زندگی اور موت کے ایسے فیصلے کرتا ہے جس سے اس ریاست کے تمام شہری ہی متاثر ہوتے ہیں۔‘‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ لبنان میں صورت حال کی بہتری کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے؟ تو امریکا کے کہنہ مشق سفارت کارنے اپنے ذاتی نقطہ نظر کا اظہار کرتے ہوئے حزب اللہ کے سیاسی اتحادیوں پر زوردیا کہ ’’وہ اس گروپ کے تخریبی کردار کو تبدیل کرنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں یا پھرانھیں اس اتحاد ہی سے نکل جانا چاہیے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’امریکا نے گذشتہ برسوں کے دوران میں لبنان کے ریاستی اداروں کو اربوں ڈالرز امداد کی شکل میں دیے ہیں۔‘‘ڈیوڈ ہیل کا کہنا تھا کہ ’’لبنان کے حقیقی دوستوں کو ریاست کی اتھارٹی کو مضبوط بنانے میں مدد دینی چاہیے نہ کہ کسی ایک دھڑے کی اتھارٹی کو مضبوط بنانا چاہیے۔‘‘ان کا اشارہ حزب اللہ کو اسلحہ اور مالی امداد مہیا کرنے کی جانب تھا۔یہ ایران ہے جو اس ملیشیا کی سب سے زیادہ پشتیبانی کررہا ہے۔

انھوں نے لبنانی فوج کی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زوردیا لیکن ملک کی سیاسی اشرافیہ پر نئی حکومت کی تشکیل میں ناکامی پر نکتہ چینی کی ہے۔

لبنان میں اس وقت کوئی فعال حکومت نہیں اور عبوری وزیراعظم حسان دیاب کے زیرقیادت نگران حکومت ملک کا نظم ونسق چلا رہی ہے جبکہ نامزد وزیراعظم سعد الحریری ابھی تک نئی حکومت کی تشکیل میں ناکام ہیں۔لبنان کو اس وقت بدترین اقتصادی ،مالی اور سماجی بحران کا سامنا ہے۔

ڈیوڈہیل نے محکمہ خارجہ میں اپنی ذمے داریوں سے سبکدوش ہونے سے قبل گذشتہ ماہ بیروت کا سفر کیا تھا۔انھوں نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ 1990ء میں خانہ جنگی کے خاتمے کے بعد سے میں نے اس طرح کی مایوس کن صورت حال اورنااُمیدی نہیں دیکھی ہے۔

دریں اثناء سینیٹر ٹِم کین نے بھی امریکا کی جانب سے لبنانی فوج کی معاونت جاری رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔انھوں نے بھی حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم قراردیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے اورخبردارکیا ہے کہ امریکا کو اس گروپ کو بااختیار بنانے کے معاملےمیں احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا لبنانی فوج میں سرمایہ کاری کے ذریعے اس ملک کےعوام کی مدد کرسکتا ہے۔اس کے علاوہ انسانی امداد کی تقسیم کے لیے بین الاقوامی غیرسرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے۔