.
غزہ وحماس

اسرائیل کے غزہ پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں:یواین انسانی حقوق کمشنر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر میشیل بیشلیٹ نے کہا ہے کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حالیہ تباہ کن حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں اور غزہ کی حماس تنظیم نے بھی اسرائیل کی جانب راکٹ داغ کر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

وہ جمعرات کے روز جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔مس بیشلیٹ نے کہا کہ ’’ان کے دفتر نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں غزہ ،غربِ اردن اور مقبوضہ مشرقی القدس میں 270 فلسطینیوں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ان میں 68 کم سن بچّے بھی شامل ہیں۔‘‘غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے 11 روز تک تباہ کن فضائی حملوں میں 250 فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ حماس کے راکٹ حملوں میں 10 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

کونسل کا یہ اجلاس اسلامی ممالک کی درخواست پر طلب کیا گیا ہے۔ان ممالک نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان جنگی جرائم کے ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے اور ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

میشیل بیشلیٹ نے بتایا کہ ’’حالیہ تنازع حماس کے اسرائیلی فورسز سے مقبوضہ بیت المقدس میں واقع الاقصیٰ کے احاطے سے انخلا کے مطالبے سے شروع ہوا تھا۔ جب اسرائیلی فورسز نے اس مطالبے کے مطابق مسجد اقصیٰ کو خالی نہیں کیا تو حماس نے بلاامتیاز اسرائیل کی جانب راکٹ حملے شروع کردیے تھے اور یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی واضح خلاف ورزی تھی۔‘‘

انھوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ’’اسرائیل نے ان راکٹ حملوں کے ردعمل میں غزہ پر شدید فضائی حملے شروع کردیے تھے اور سمندر سے بھی اسرائیلی بحریہ نے غزہ پر میزائل داغے ہیں جس سے فلسطینی علاقے میں بڑے پیمانے پر شہری ڈھانچے کی تباہی ہوئی ہے اور اموات ہوئی ہیں۔‘‘

انھوں نے 47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل کوبتایا: ’’اسرائیل نے یہ تو دعوے کیے ہیں کہ ان میں سے بہت سی عمارتوں میں مسلح فلسطینی گروپ رہ رہے تھے یا انھیں فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا تھا لیکن ہمیں اس ضمن میں کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا:اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ طاقت کا غیرمتناسب ،بے دریغ اور بلاامتیاز استعمال کیا گیا ہے تو اس طرح کے حملے جنگی جرائم قرارپائیں گے۔‘‘انھوں نے حماس پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بلاامتیاز راکٹ داغنے سے گریز کرے۔

دریں اثناء فلسطینی وزیرخارجہ ریاض المالکی نے کہا ہے کہ ’’اسرائیل ایک قابض قوت اور نسل پرست اتھارٹی ہے۔اس نے نوآبادیاتی اور نسل پرست نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اپنے جرائم ،پالیسیوں اور قوانین پر عمل درآمد کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔‘‘