.

یواین انسانی حقوق کونسل نےغزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات کی منظوری دے دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان حالیہ 11 روزہ مسلح تنازع کے دوران میں جنگی جرائم اورانسانیت مخالف جرائم کی بین الاقوامی تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔

جنیوا میں جمعرات کو47 رکن ممالک پر مشتمل کونسل کے خصوصی اجلاس میں 24 ممالک نے غزہ میں مرتکبہ جرائم کی تحقیقات کے لیے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے جبکہ 9 ممالک نے اس کی مخالفت کی ہے اور 14 ممالک نے قرارداد پر رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

غزہ میں جنگی جرائم کی تحقیقات سے متعلق قرارداد اسلامی تعاون تنظیم (اوآئی سی) اور اقوام متحدہ میں فلسطینی وفد نے پیش کی تھی۔کونسل کی موجودہ صدر فجی کی سفیر نزہت شمیم خان نے رائے شماری کے بعد اس قرارداد کی منظوری کا اعلان کیا۔

امریکا نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں غزہ تنازع کی تحقیقات کی منظوری کی مخالفت کردی ہے اور کہا ہے کہ اس سے خطے میں ہونے والی حالیہ پیش رفت کے لیے خطرات پیدا ہوگئے ہیں۔

قبل ازیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمشنر میشیل بیشلیٹ نے کہا کہ اسرائیل کے غزہ کی پٹی پر حالیہ تباہ کن حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آسکتے ہیں اور غزہ کی حماس تنظیم نے بھی اسرائیل کی جانب راکٹ داغ کر بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی کی ہے۔

انھوں نے انسانی حقوق کونسل کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’’ان کے دفتر نے گذشتہ ایک ماہ کے دوران میں اسرائیلی فورسز کی کارروائیوں میں غزہ ،غربِ اردن اور مقبوضہ مشرقی القدس میں 270 فلسطینیوں کی اموات کی تصدیق کی ہے۔ان میں 68 کم سن بچّے بھی شامل ہیں۔‘‘غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوج کے 11 روز تک تباہ کن فضائی حملوں میں 250 فلسطینی شہید ہوئے تھے جبکہ حماس کے راکٹ حملوں میں 10 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا:اگر یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ اسرائیل نے طاقت کا غیرمتناسب ،بے دریغ اور بلاامتیاز استعمال کیا ہے تو اس طرح کے حملے جنگی جرائم قرارپائیں گے۔‘‘انھوں نے حماس پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بلاامتیاز راکٹ داغنے سے گریز کرے۔

کونسل کا یہ خصوصی اجلاس اسلامی ممالک کی درخواست پر طلب کیا گیا تھا۔ان ممالک نے غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک کمیشن قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ ان جنگی جرائم کے ذمے داروں کا تعیّن کیا جاسکے اور ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔