.

سعودی بحریہ کے جہاز "سفينۃ جلالۃ الملك سعود" کی تیاری کا سرکاری طور پرآغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی روئل نیوی نے جمعرات کے روز 'طویق' منصوبے کے ضمن میں پہلے بحری جہاز کی تیاری کا کام سرکاری طور پر شروع ہونے کی تقریب منائی۔ اس جہاز کو سرکاری طور پر "سفينة جلالۃ الملك سعود" (His Majesty King Saud Ship) کا نام دیا گیا ہے۔ تقریب کا انعقاد امریکی ریاست وِسکونسن کے شہر میری نیٹ میں کیا گیا۔

تقریب کی سرپرستی سعودی روئل نیوی کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل فہد الغفیلی نے کی۔ اس موقع پر سعودی روئل نیوی کے کئی سینئر افسران، واشنگٹن اور اٹاوا میں سعودی سفارت خانے کے عسکری اتاشی کے علاوہ امریکی بحریہ، لاک ہیڈ مارٹن کمپنی اور فینکانتری کمپنی کی متعدد سینئر شخصیات بھی موجود تھیں۔

سعودی روئل نیوی کے کمانڈر نے اس موقع پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سعودی فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز، ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان اور نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کی جانب سے اس سلسلے میں پیش کی جانے والی لا محدود سپورٹ کو بھی سراہا۔

یاد رہے کہ طویق کا منصوبہ سعودی روئل نیوی کو ترقی دینے کے لیے وضع کیے گئے مرکزی منصوبوں میں سے ایک ہے۔ اس منصوبے میں 4 کثیر المقاصد جنگی بحری جہازوں کی تیاری شامل ہے۔ ان جہازوں میں جدید ترین نظام اور آلات نصب ہوں گے۔

منصوبے میں بحری جہازوں کے عملے کی تیاری اور تربیت کے علاوہ لوجسٹک خدمات اور فنی سپورٹ کی فراہمی شامل ہے۔

سعودی ولی عہد یہ اعلان کر چکے ہیں کہ سال 2030ء تک مملکت کے مجموعی عسکری اخراجات میں مقامی سطح کی نمائندگی کو 50% تک پہنچایا جائے گا۔