.

سعودی عرب کے انسداد بدعنوانی کمشن سے متعدد فوج داری مقدمات پر فیصلے جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کمیشن نے متعدد فوج داری، انتظامی اور مالی کرپشن سے متعلق زیرسماعت کیسز پر فیصلے صادر کرتے ہوئے ملزمان کو جرمانے اورقید کی سزائیں سنائی ہیں۔

انسداد بدعنوانی کمیشن کے ایک ذمہ دار ذریعے نے بتایا کہ الریاض کی فوج داری عدالت میں تحقیقات کے لیے دائر کردہ انتظامی،مالی اور فوج داری نوعیت کے مقدمات پرفیصلے صادر کرنے سے قبل تمام شواہد اور ثبوت اکھٹے کیے گئے اور ثبوتوں کی بنیاد پر فیصلے جاری کیےگئے ہیں۔

پہلے فوج داری کیسز میں وزارت دیہی ترقی و ہاؤسنگ کے ایک ملازم، وزارت دفاع کے زیرانتظام ایک ملٹری کالج کے طالب علم،ایک غیر سعودی عرب شہری، ایک دوسرا مقامی ملزم جس نے جعلی اسناد کی بنیاد پر سرکاری ملازمت حاصل کی کو دو سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔دوسرے ملزم کو ڈیڑھ سال قید50 ہزار ریال جرمانہ،تیسرے ملزم کوایک سال قید اور 20 ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

بدعنوانی کے دوسرے مقدمہ میں وزارت داخلہ کے ماتحت ایک سیکیورٹی ادارےکے سربراہ جو میجر جنرل کے عہدے پر تعینات تھے پرانتظامی بدعنوانی، عہدے کے غیرقانونی اور ناجائز استعمال، سرکاری ملازمت کے باوجود کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہونے جیسے الزامات عاید کیے گئے تھے۔ اس کیس میں ملزم کو 8 سال قید اور ایک لاکھ 60 ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ اس کیس میں ایک میجر کو دھوکہ دہی اور بدانتظامی پر اڑھائی سال قید اور ایک لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔ اسی سیکیورٹی ادارے میں ملازمت کرنے والے ایک تیسرے ملزم کو تین سال قید اور دو لاکھ جرمانہ، ایک بریگیڈیئر کے عہدے کے افسر کو دو سال قید اور 10 ہزار ریال جرمانہ، ایک کاروباری شخصیت کو منی لانڈرنگ اور دھوکہ دہی پر ساڑھے چار سال قید اور ڈیڑھ لاکھ ریال جرمانہ اور ایک دوسرے کاروباری شخص کو دو سال قید اور دو لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

تیسرے کیس میں میجر جنرل کے عہدے کے ایک افسر کو عہدے کے غیرقانونی استعمال ، ندانتظامی اور دیگر الزامات میں 10 سال قید اور 2 لاکھ ریال جرمانہ، سیکیورٹی ادارے کے چار دیگر افسران کو تین سے چھ سال قید اور 50 لاکھ ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

چوتھے مقدمہ میں جیل میں تعینات ایک سیکیورٹی اہلکار کو سزا سناھی گئی۔ اس پر قیدیوں کو غیرقانونی طور پر موبائل فون فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اسے دو سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

پانچویں کیس میں ایک رئیل اسٹیٹ سروے کمپنی کے دو ملازمین کو رشوت وصول کرنے کے الزام میں 2 سال قید اور 20 ہزار ریال جرمانہ جب کہ دوسرے ملزم کو ڈیڑھ سال قید اور 30 ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

چھٹے کیس میں ملک میں سیکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والی ایک کمپنی کے متعدد عہدیداروں کو رشوت وصول کرنے کے الزام میں چار سالق ید اور 75 ہزار ریال جرمانہ کی سزا سنائی گئی۔

ساتواں کیس سعودی عرب میں ایک عدالت کے ایک ملازم کا ہے جس نے ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے عدالتی عہدے کا ناجائز استعمال کیا تھا۔ اسے پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔
آٹھویں مقدمہ میں وزارت صحت کے دو ملازمین ،چار عام شہری اور ایک غیرملکی شامل ہے جن پر رشوت، امانت میں خیانت، پرمٹس کے غیرقانونی استعمال جیسے الزامات عاید ہیں۔انہیں چھ ماہ سے پانچ سال تک قید اور 10 ہزار سے 90 ہزار ریال تک جرمانہ کی سزائیں سنائی گئیں۔